ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 99

وَ قَالَ اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۹۹﴾
اور اس نے کہا بے شک میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔ En
اور ابراہیم بولے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں وہ مجھے رستہ دکھائے گا
En
اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

99۔ نیز ابراہیم نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہوں [54] وہی میری رہنمائی کرے گا
[54] شام کی طرف ہجرت:۔
جب آپ کا باپ اور آپ کی ساری قوم آپ کی جانی دشمن بن گئی تو آپ نے ترک وطن کا فیصلہ کر لیا کہ اب یہاں سے نکل جانا ہی بہتر ہے۔ نکلتے وقت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کہاں جانا ہے۔ فقط اتنا کہا کہ میں اللہ کی خاطر ہجرت پر روانہ ہوا ہوں۔ مجھے کہاں جانا چاہئے یہ بات میرا پروردگار مجھے خود ہی بتائے گا اور میری رہنمائی فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو شام کی طرف جانے کا حکم ہوا اور آپ اپنی بیوی اور بھتیجا یا چچا زاد بھائی سیدنا لوط سمیت شام کی طرف چلے گئے اس وقت تک صرف سیدنا لوط ہی آپ پر ایمان لائے تھے۔ اور آپ کی اس وقت تک کوئی اولاد بھی نہ تھی۔