96۔ حالانکہ اللہ ہی نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں [52] کو بھی جو تم بناتے ہو
[52] سیدنا ابراہیم سے قوم کا سوال و جواب:۔
میلہ سے واپسی پر قوم نے جب اپنے معبودوں کا یہ حشر دیکھا تو ان کا پارا بہت چڑھ گیا وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ ہمارے بتوں کی مخالفت صرف ابراہیم ہی کرتا رہتا تھا اور وہ پیچھے بھی رہ گیا تھا۔ لہٰذا یہ اسی کا کارنامہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ان کے پاس دوڑتے آئے اور معبودوں سے اس طرح کی بد سلوکی کی وجہ پوچھی تو آپؑ نے کہا کہ بڑے بت سے کیوں نہیں پوچھتے۔ جس کے کندھے پر کلہاڑا ہے۔ شاید اس نے ہی اپنے چھوٹوں سے ناراض ہو کر ان کا یہ حشر کر دیا ہو۔ پھر ساتھ ہی کہہ دیا کہ یہ پتھر کے بے جان بت جو اپنی حفاظت نہیں کر سکتے تمہارا کیا سنوار سکتے ہیں اور تم لوگ جو ان کی عبادت کرتے ہو اس کا فائدہ کیا ہے۔ پھر یہ بت تم نے خود ہی تراش رکھے ہیں علاوہ ازیں تم کو اور اس پتھر کو بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اور یہ بت تو مخلوق در مخلوق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور عبادت کی مستحق تو وہ ہستی ہو سکتی ہے جو خالق ہو۔ یہ مخلوق در مخلوق کیسے مستحق ہو سکتی ہے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔