یہاں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل انسانی صرف نوح کے تین بیٹوں (حام۔ سام اور یافث) سے چلی (اور چوتھا بیٹا یام کافر تھا جو طوفان میں غرق ہو گیا تھا) اور اس کی تائید ترمذی کی درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ سیدنا سمرہ سے روایت ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ نوحؑ کے تین بیٹے تھے۔ حام، سام یافث، حام حبش کا باپ، سام عرب کا اور یافث روم کا [ترمذي۔ ابواب التفسير] مگر بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کے بعد نسل سیدنا نوح کی اولاد اور ان لوگوں کی اولاد سے چلی تھی جو کشتی میں آپ کے ساتھ سوار تھے۔ [سوره بني اسرائيل آيت نمبر 3] اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آیت میں اجمال اور دوسری میں تفصیل ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔