انہوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا ہی نہ کی کہ جو کچھ ان کے آباء و اجداد کرتے آرہے ہیں۔ وہ درست ہے یا غلط ہے۔ جس راہ پر انہیں چلتے دیکھا اسی پر دوڑنے لگے، کنواں کھائی کچھ نہ دیکھا اور اگر ان کے پاس رسول آئے تو انہیں بھی جھٹلا دیا۔ اور اپنی آبائی رسوم کی حمایت میں رسولوں کی مخالفت پر اتر آئے حالانکہ اگر وہ سابقہ اقوام کی روش سے اور ان کے انجام سے کچھ سبق حاصل کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔