ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 6

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِزِیۡنَۃِۣ الۡکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾
بے شک ہم نے ہی آسمان دنیا کو ایک انوکھی زینت کے ساتھ آراستہ کیا، جو ستارے ہیں۔ En
بےشک ہم ہی نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا
En
ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ بلا شبہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے مزین [4] کیا ہے۔
[4] آسمانوں کا وجود ایک ٹھوس حقیقت ہے:۔
نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے اس میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس خوشنما منظر کو دیکھنے سے ہی انسان راحت محسوس کرتا ہے۔ موجودہ دور کے ہیئت دان کسی آسمان کے قائل نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق آسمان صرف حد نگاہ کا نام ہے۔ جبکہ کتاب و سنت میں صراحت سے مذکور ہے کہ آسمان ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔ آج کے ماہرین فلکیات کئی ستاروں کا زمین سے لاکھوں اور کروڑوں میل کا فاصلہ بتاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان ستاروں کی روشنی ذاتی نہیں ہوتی بلکہ انعکاس روشنی کے اصول کے تحت سورج کی روشنی سے ہی یہ منور اور روشن اور چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ہمارے چاند کی روشنی بھی سورج کی روشنی ہی کی مرہون منت ہے۔ اب قرآن یہ کہتا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ماہرین کی تمام تر تحقیقات تا حال آسمان دنیا کے بھی نیچے ہیں۔ اور باقی آسمانوں کی تو اس کے بعد ہی باری آ سکتی ہے۔ جو شاید انسان کی بساط سے باہر ہے۔