55۔ پھر جب وہ جھانکے [32] گا تو اسے جہنم کے عین درمیان دیکھے گا
[32] عالم آخرت میں سمعی اور بصری قوتوں میں بے پناہ اضافہ:۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالم آخرت میں جو سمعی و بصری قوتیں عطا کی جائیں گی وہ اس دنیا کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوں گی۔ ہم اس دنیا میں بھی ہزاروں میل دور بیٹھے آدمیوں کی آوازیں سنتے اور انہیں دیکھتے ہیں۔ مگر صرف ان لوگوں کی جو ٹیلیویژن سنٹر میں ہوتے ہیں اور براڈ کا سٹ کرتے ہیں۔ عالم آخرت میں ہر شخص دوسرے سے گفتگو کر سکے گا اور اسے دیکھ بھی سکے گا۔ خواہ یہ فاصلہ ہزاروں بلکہ لاکھوں میل کا ہو۔ اور کسی آلہ کے واسطہ کے بغیر سن اور دیکھ سکے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔