ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 35

اِنَّہُمۡ کَانُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ۙ یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿ۙ۳۵﴾
بے شک وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے تھے۔ En
ان کا یہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں تو غرور کرتے تھے
En
یہ وه (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ انہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ ”اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں“ تو وہ اکڑ [18] بیٹھتے تھے۔
[18] خوشحال لوگوں کے اکڑنے کی تین وجوہ:۔
ان کے تکبر کی کئی وجوہ تھیں، ایک یہ کہ جب انہیں یہ بتایا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو تم اس میں اپنے بتوں اور معبودوں کی بھی توہین سمجھتے تھے، اپنی بھی اور اپنے آباء و اجداد کی بھی لہٰذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے دوسری یہ کہ مشرکانہ رسوم کے رواج سے جو کچھ دنیوی مفادات حاصل کر رہے تھے اس سے انہیں دستبردار ہونا پڑتا تھا لہٰذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے، تیسری یہ کہ اگر وہ لا الہ الا اللہ کا دل سے اقرار کرتے تو انہیں اپنی چودھراہٹوں اور سرداریوں سے دستبردار ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا پڑتا تھی۔ لہٰذا وہ اکڑ بیٹھتے تھے۔