30۔ اور ہمارا تم پر کچھ زور [17] بھی نہیں تھا بلکہ تم خود سرکش تھے۔
[17] اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہٰذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہو سکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔