ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 19

فَاِنَّمَا ہِیَ زَجۡرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سو وہ بس ایک ہی ڈانٹ ہوگی، تو یکایک وہ دیکھ رہے ہوں گے۔ En
وہ تو ایک زور کی آواز ہوگی اور یہ اس وقت دیکھنے لگیں گے
En
وه تو صرف ایک زور کی جھڑکی ہے کہ یکایک یہ دیکھنے لگیں گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ وہ تو بس ایک ڈانٹ [11] ہو گی جس پر وہ فوراً (سب کچھ) دیکھنے لگیں گے
[11] یعنی تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کا موسم یا وقت وہ ہو گا جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ صور کی آواز بالکل ایک ڈانٹ کی طرح ہو گی۔ جیسے کوئی شخص سوئے ہوئے آدمی کو ڈانٹ کر کہتا ہے اب اٹھتے کیوں نہیں ہو اتنا دن چڑھ آیا ہے۔ تو وہ خواہ کیسی گہری نیند لے رہا ہو، بیدار ہو جاتا ہے۔ یہی تمہاری کیفیت ہو گی۔ اور تمہاری یہ کیفیت اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہو گی۔ یعنی جس طرح تمہاری پیدائش اور تمہاری موت میں تمہاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بے بس ہو گے۔