19۔ وہ تو بس ایک ڈانٹ [11] ہو گی جس پر وہ فوراً (سب کچھ) دیکھنے لگیں گے
[11] یعنی تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کا موسم یا وقت وہ ہو گا جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ صور کی آواز بالکل ایک ڈانٹ کی طرح ہو گی۔ جیسے کوئی شخص سوئے ہوئے آدمی کو ڈانٹ کر کہتا ہے اب اٹھتے کیوں نہیں ہو اتنا دن چڑھ آیا ہے۔ تو وہ خواہ کیسی گہری نیند لے رہا ہو، بیدار ہو جاتا ہے۔ یہی تمہاری کیفیت ہو گی۔ اور تمہاری یہ کیفیت اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہو گی۔ یعنی جس طرح تمہاری پیدائش اور تمہاری موت میں تمہاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بے بس ہو گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔