﴿يَقْطِيْنٌ﴾ کا اطلاق ہر اس پودے پر ہوتا ہے جس کا تنا نہ ہو مثلاً کدو، ککڑی، تربوز وغیرہ اور بالخصوص اس کا اطلاق پیٹھا کدو کی بیل پر ہوتا ہے۔ اور مفسرین کی اکثر رائے کے مطابق یہی پودا وہاں اگ آیا تھا۔ اس کے پتے چوڑے چوڑے ہوتے ہیں جو دھوپ وغیرہ سے سایہ کا کام دیتے ہیں۔ نیز کہتے ہیں کہ مکھی اس پودے کے نزدیک نہیں آتی۔ آپ کی خوراک کا اللہ تعالیٰ نے کیا انتظام فرمایا؟ کتاب و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ روزانہ ایک ہر نی آتی جس کا آپؑ دودھ پی لیتے تھے۔ تا آنکہ چند دنوں میں آپؑ چلنے پھرنے کے قابل ہو گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔