ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 142

فَالۡتَقَمَہُ الۡحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿۱۴۲﴾
پھر مچھلی نے اسے نگل لیا، اس حال میں کہ وہ مستحق ملامت تھا۔ En
پھر مچھلی نے ان کو نگل لیا اور وہ (قابل) ملامت (کام) کرنے والے تھے
En
تو پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وه خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگ گئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

142۔ چنانچہ مچھلی نے انہیں نگل لیا [83] اور وہ ملامت زدہ [84] تھے
[83] ﴿مُلِيْمٌ کا معنی وہ شخص ہے جس کا ضمیر خود ہی ملامت کر رہا ہو کہ وہ واقعی مجرم ہے اور کوئی ملامت کرے یا نہ کرے۔ اور سیدنا یونسؑ کو اپنی اجتہادی غلطی کا احساس بھاگنے کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا۔ اور قرعہ میں ہر بار آپ کا نام نکلنے پر اس کا یقین ہو گیا۔
[84] چنانچہ آپؑ مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کے بعد اپنے پروردگار کے حضور توبہ استغفار میں مشغول رہنے لگے۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ کا وظیفہ یہ ہوتا تھا۔ ﴿لاَ اِلٰهَ الآَ أنْتَ سُبْحَانَكَ إنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِميْن جیسا کہ سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 87 میں مذکور ہے۔ اگر آپؑ یہ کلمات تسبیحات نہ پڑھتے رہتے تو ہمیشہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے یعنی اس کی غذا بن کر اس کے جسم میں تحلیل ہو جاتے۔