142۔ چنانچہ مچھلی نے انہیں نگل لیا [83] اور وہ ملامت زدہ [84] تھے
[83]﴿مُلِيْمٌ﴾ کا معنی وہ شخص ہے جس کا ضمیر خود ہی ملامت کر رہا ہو کہ وہ واقعی مجرم ہے اور کوئی ملامت کرے یا نہ کرے۔ اور سیدنا یونسؑ کو اپنی اجتہادی غلطی کا احساس بھاگنے کے فوراً بعد ہی ہو گیا تھا۔ اور قرعہ میں ہر بار آپ کا نام نکلنے پر اس کا یقین ہو گیا۔ [84] چنانچہ آپؑ مچھلی کے پیٹ میں چلے جانے کے بعد اپنے پروردگار کے حضور توبہ استغفار میں مشغول رہنے لگے۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ کا وظیفہ یہ ہوتا تھا۔ ﴿لاَاِلٰهَالآَأنْتَسُبْحَانَكَإنِّيْكُنْتُمِنَالظّٰلِميْن﴾ جیسا کہ سورۃ انبیاء کی آیت نمبر 87 میں مذکور ہے۔ اگر آپؑ یہ کلمات تسبیحات نہ پڑھتے رہتے تو ہمیشہ مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے یعنی اس کی غذا بن کر اس کے جسم میں تحلیل ہو جاتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔