141۔ پھر قرعہ [81] ڈالا تو انہوں نے زک [82] اٹھائی۔
[81] کشتی میں قرعہ اندازی:۔
سیدنا یونسؑ اہل نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ بھاگ کر ساحل سمندر پر پہنچے تو دیکھا کہ کشتی کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ آپؑ کے کہنے پر کشتی والوں نے آپ کو بھی سوار کر لیا، روانہ ہوئے ہی تھے کہ کشتی آگے بڑھنے کے بجائے چکر کھانے لگی۔ کشتی والوں نے اپنے تجربہ کی بنا پر کشتی پر سوار لوگوں سے کہا کہ ایسا معاملہ ہمیں اس وقت پیش آتا ہے جب کوئی بھاگا ہوا غلام کشتی پر سوار ہو۔ انہوں نے قرعہ ڈالا تو سیدنا یونسؑ کے نام قرعہ نکلا۔ دوبارہ سہ بارہ قرعہ ڈالنے سے بھی سیدنا یونس ہی کا نام نکلا اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیئت کے مطابق ہو رہا تھا۔
[82] سیدنا یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں:۔
چنانچہ کشتی والوں نے سیدنا یونسؑ کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ ایک بہت بڑی وہیل مچھلی پہلے ہی منہ کھولے کھڑی تھی۔ اس نے فوراً سیدنا یونسؑ کو ایک ہی لقمہ بنا کر نگل لیا۔ اس طرح سیدنا یونسؑ جیتے جاگتے مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔