ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الصافات (37) — آیت 137

وَ اِنَّکُمۡ لَتَمُرُّوۡنَ عَلَیۡہِمۡ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۱۳۷﴾
اور بلا شبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو۔ En
اور تم دن کو بھی ان (کی بستیوں) کے پاس سے گزرتے رہتے ہو
En
اور تم تو صبح ہونے پر ان کی بستیوں کے پاس سے گزرتے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

137۔ اور تم تو ان (کی اجڑی [79] بستی) پر شب و روز گزرتے ہی رہتے ہو۔
[79] یہ علاقہ اس شاہراہ پر واقع تھا جہاں سے کفار مکہ کے تجارتی قافلے مکہ سے شام اور شام سے واپسی پر گزرتے تھے اور اس اجڑے ہوئے علاقہ کے تاریخی حالات بھی معلوم تھے۔ بسا اوقات دیکھتے بھی رہتے تھے۔ لیکن یہ سوچنے کی کبھی زحمت ہی گوارا نہ کرتے تھے کہ یہ علاقہ کیوں ہلاک کیا گیا تھا؟ اور اگر ہم بھی اللہ کے نافرمان اور سرکش بن کر رہیں تو ہم پر بھی عذاب الٰہی نازل ہو سکتا ہے۔