پھر جب وہ اس کے ساتھ دوڑ د ھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے چھوٹے بیٹے! بلاشبہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، تو دیکھ تو کیا خیال کرتا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے باپ! تجھے جو حکم دیا جا رہا ہے کر گزر، اگر اللہ نے چاہا تو تو ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائے گا ۔
En
جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ (گویا) تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابا جو آپ کو حکم ہوا ہے وہی کیجیئے خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پایئے گا
پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے
En
102۔ پھر جب وہ بیٹا ان کے ہمراہ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک دن) ابراہیم نے کہا: بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کر [56] رہا ہوں اب بتاؤ تمہاری کیا رائے [57] ہے؟ بیٹے نے جواب دیا: ابا جان! وہی کچھ کیجئے جو آپ کو حکم [58] ہوا ہے آپ انشاء اللہ مجھے صبر [59] کرنے والا ہی پائیں گے
[56] بیٹے کو ذبح کرنے کے متعلق خواب:۔
سیدنا اسمٰعیلؑ جب اس عمر کو پہنچے جب وہ اپنے باپ کے کاموں میں ان کا ہاتھ بٹا سکتے تھے تو سیدنا ابراہیمؑ کو ایک اور بہت بڑی آزمائش میں ڈالا گیا۔ آپؑ کو تین راتیں مسلسل خواب آتا رہا جس میں آپ دیکھتے تھے کہ آپ اسی بیٹے کو جسے آپ نے اللہ سے دعا کر کے لیا تھا اور جو آپ کے بڑھاپے میں آپ کا سہارا بن رہا تھا، ذبح کر رہے ہیں چنانچہ آپ نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے۔
[57] بیٹے سے سوال:۔
چنانچہ سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے نوجوان بیٹے کو یہ خواب بتا کر ان کی رائے دریافت کی۔ آپؑ نے یہ رائے اس لئے دریافت نہیں کی تھی کہ اگر بیٹا اس بات پر آمادہ نہ ہو یا وہ انکار کر دے تو آپؑ اللہ کے اس کے حکم کی تعمیل سے باز رہیں گے بلکہ اس لئے پوچھا تھا کہ آیا یہ فی الواقع صالح بیٹا ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ آپؑ نے جو دعا کی تھی وہ صالح بیٹے کے لئے کی تھی۔
[58] نبی کا خواب وحی ہوتا ہے:۔
اس سے معلوم ہوا کہ خواب سن کر سیدنا اسمٰعیلؑ بھی اسی نتیجہ پر پہنچے تھے کہ اللہ کا حکم ہے جس سے یہ نتیجہ مستنبط ہوتا ہے کہ نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور اس کی تائید بعض دوسری آیات اور احادیث سے بھی ہو جاتی ہے۔
[59] بیٹے کی بے مثال فرمانبرداری:۔
سیدنا اسمٰعیلؑ اس قدر خندہ پیشانی اور فراخ دلی سے قربان ہونے کو تیار ہو گئے جس کی دوسری کوئی مثال دنیا میں مل نہیں سکتی وہ ایک نہایت صالح اور انتہائی فرمانبردار بیٹے ثابت ہوئے۔ کیونکہ بیٹے کی قربانی دینے کا حکم تو باپ کو ہوا تھا۔ بیٹے کو قربان ہو جانے کا حکم نہیں ہوا تھا۔ بیٹے نے اپنے والد کا فرمان بلا چون و چرا تسلیم کر کے اپنے والد کی بھی انتہائی خوشنودی حاصل کر لی اور اپنے پروردگار کی بھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔