10۔ تاہم اگر کوئی شیطان کوئی بات لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب [6] کرتا ہے۔
[6] شہاب ثاقب:۔
اس آیت کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ: ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ دفعتاً ایک ستارہ ٹوٹا اور روشنی ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے پوچھا: ”دور جاہلیت میں جب ایسا واقعہ ہوتا تو تم کیا کہتے تھے؟“ صحابہ کہنے لگے: ”ہم تو یہی کہتے تھے کہ کوئی بڑا آدمی مر گیا یا پیدا ہوا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی کی زندگی یا موت کے سبب سے نہیں ٹوٹتا بلکہ ہمارا پروردگار کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو حاملان عرش تسبیح کرتے ہیں پھر آسمان والے فرشتے جو ان سے قریب ہوتے ہیں پھر ان سے قریب والے تسبیح کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ سبحان اللہ کی آواز ساتویں آسمان تک پہنچتی ہے پھر چھٹے آسمان والے ساتویں آسمان والوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا۔ وہ انہیں خبر دیتے ہیں۔ اسی طرح نیچے آسمان والے اوپر کے آسمان والوں سے پوچھتے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ خبر دنیا کے آسمان تک پہنچتی ہے اور شیطان اچک کر سننا چاہتے ہیں تو ان کو مار پڑتی ہے اور وہ کچھ بات لا کر اپنے یاروں (کاہنوں وغیرہ) پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ خبر تو سچ ہوتی ہے مگر وہ اسے بدلتے اور گھٹا بڑھا دیتے ہیں۔“ [ترمذي۔ ابواب التفسير] نیز اس سلسلہ میں سورۃ حجر کی آیت نمبر 18 کا حاشیہ نمبر 9 بھی ملاحظہ فرمائیے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں