ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 8

اِنَّا جَعَلۡنَا فِیۡۤ اَعۡنَاقِہِمۡ اَغۡلٰلًا فَہِیَ اِلَی الۡاَذۡقَانِ فَہُمۡ مُّقۡمَحُوۡنَ ﴿۸﴾
بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں کئی طوق ڈال دیے ہیں، پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں، سو ان کے سر اوپر کو اٹھا دیے ہوئے ہیں۔ En
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال رکھے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے ہیں) تو ان کے سر اُلل رہے ہیں
En
ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں پھر وه ٹھوڑیوں تک ہیں، جس سے ان کے سر اوپر کو الٹ گئے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ ہم نے ان کے گلوں میں طوق [8] ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک پہنچ گئے ہیں۔ لہذا وہ سر اٹھائے ہی رہتے ہیں۔
[8] تقلید آباء اور رسم و رواج کے طوق:۔
یہ طوق ان کی تقلید آباء کے طوق تھے، ان کی جاہلانہ اور مشرکانہ رسوم کے طوق تھے، ان کے کبر و نخوت کے طوق تھے جنہوں نے ان کے گلوں کو اس حد تک دبا رکھا تھا اور ان کے سر اس قدر جکڑے ہوئے تھے کہ وہ کسی دوسری طرف دیکھ ہی نہ سکتے تھے۔ نہ ہی ان کی نگاہیں نیچے اپنی طرف دیکھ سکتی تھیں کہ وہ کم از کم اپنے اندر ہی موجود اللہ کی نشانیوں اور قدرتوں کو دیکھ کر کچھ سبق حاصل کر سکیں۔