ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 79

قُلۡ یُحۡیِیۡہَا الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلۡقٍ عَلِیۡمُۨ ﴿ۙ۷۹﴾
کہہ دے انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جاننے والا ہے۔ En
کہہ دو کہ ان کو وہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اور وہ سب قسم کا پیدا کرنا جانتا ہے
En
آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

79۔ آپ اسے کہئے کہ: ”اسے وہی زندہ کرے گا جس نے اسے پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر قسم کا پیدا [71] کرنا جانتا ہے
[71] اللہ کی تخلیق کے مختلف طریقے:۔
یعنی ایک بیج سے تناور درخت بنا کھڑا کرنے کی صورت اور ہے۔ بے جان غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے حیوانات اور انسان کو پیدا کر دکھانے کی صورت اور ہے۔ اور کسی مردہ انسان کے گلے سڑے اجزاء کو ملا کر اکٹھا کر کے ان کو زندہ کھڑا کر دینے کی صورت اور ہے۔ غرضیکہ کائنات میں تخلیق کئی صورتوں سے ہو رہی ہے اور اللہ چونکہ خود ہر چیز کا خالق ہے۔ لہٰذا وہ ان سب طریقوں اور صورتوں کو پوری طرح جانتا ہے اور انسان جو ان صورتوں میں کوئی ایک صورت بھی نہیں جانتا نہ جان سکتا ہے وہ اپنے خیال اور اپنی محدود عقل کے مطابق ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے۔