78۔ وہ ہمارے لئے تو مثال بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے، کہتا ہے کہ: ”ہڈیاں جب بوسیدہ ہو چکی ہوں گی تو انہیں کون زندہ [70] کرے گا؟“
[70] یعنی وہ اپنے پروردگار کو عام مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جب انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کر سکتا تو ہم بھی نہیں کر سکتے۔ وہ ایک بوسیدہ ہڈی کو دکھا کر اور اپنے ہاتھوں سے اسے مسل کر اور چورا چورا کر کے کہتا ہے کہ بتاؤ یہ زندہ ہو سکتی ہے؟ اس وقت اسے یہ بات یاد نہیں رہتی کہ جس نطفہ سے وہ خود پیدا ہوا ہے وہ بھی بے جان غذاؤں سے بنا تھا۔ اگر وہ اس بات پر غور کرتا تو کبھی ایسا اعتراض نہ کرتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔