ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 77

اَوَ لَمۡ یَرَ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷﴾
اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے۔ En
کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو نطفے سے پیدا کیا۔ پھر وہ تڑاق پڑاق جھگڑنے لگا
En
کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

77۔ کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے پھر وہ (حقائق سے اعراض کر کے) صریح [69] جھگڑالو بن گیا۔
[69] انسان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس نطفہ سے پیدا کیا گیا ہے جو بے جان چیزوں سے بنا تھا۔ پھر اللہ نے اس میں روح پھونکی تو نہ صرف یہ کہ وہ دوسرے جانداروں کی طرح چلنے پھرنے، کھانے پینے اور پرورش پانے لگا بلکہ اس میں عقل و فہم، قوت استنباط، بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلیتیں پیدا ہو گئیں جو دوسرے کسی جاندار کو حاصل نہ تھیں۔ اور جب وہ اس منزل پر پہنچ گیا تو اپنے خالق کے بارے میں کئی طرح کی بحثیں اور جھگڑے اٹھا کھڑے کئے۔