ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 61

وَّ اَنِ اعۡبُدُوۡنِیۡ ؕؔ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ En
اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا۔ یہی سیدھا رستہ ہے
En
اور میری ہی عبادت کرنا۔ سیدھی راه یہی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

61۔ اور میری ہی عبادت [56] کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہے
[56] عبادت کا مفہوم:۔
سیدھے راستہ کی تفصیل میں جائیں تو اس سے مراد تمام تر شریعت ہے اور انتہائی مختصر الفاظ میں سیدھے راستہ کی تعریف کی جائے تو وہ یہ ہے کہ ”صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے“ اس جملہ میں شرک کی تمام تر اقسام کی تردید ہو گئی۔ پھر عبادت کا مفہوم بھی بہت وسیع ہے۔ عبادت سے عموماً ارکان اسلام کی بجا آوری مراد لی جاتی ہے تو یہ عبادت کی صرف ایک معروف قسم ہے۔ کسی کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا بھی عبادت ہے۔ پھر عبادت کا لغوی معنی بندگی اور غلام ہے وہ بھی تذلل کے ساتھ اور غلام ہر وقت غلام ہوتا ہے۔ لہٰذا اس میں کتاب و سنت کے تمام اوامر و نواہی کی بجا آوری بھی آجاتی ہے۔