6۔ تاکہ آپ ایسی قوم کو ڈرائیں جن کے آباء و اجداد نہیں [5] ڈرائے گئے تھے لہذا وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
[5] مکہ میں شعیبؑ کے دو ہزار سال بعد آپﷺ مبعوث ہوئے:
۔ اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ ﴿مَااُنْذِرَ﴾ میں اگر ما کو نافیہ سمجھا جائے جیسا کہ اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ چونکہ ان کی طرف کوئی نبی نہیں آیا لہٰذا یہ لوگ گہری غفلت اور جہالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اگر ما کو موصولہ سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ان کے قدیمی آباء و اجداد مدتوں پہلے جس چیز سے ڈرائے گئے تھے اسی چیز سے آپ ان کو ڈرائیں۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ، سیدنا اسمٰعیلؑ اور سیدنا شعیبؑ انہی کے آباء و اجداد کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور آخری نبی شعیبؑ تھے انہیں بھی دو ہزار سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اتنی مدت بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔
آپﷺ کی بعثت سے پہلے عرب کی حالت:۔
اور یہ اس طویل مدت کا ہی اثر تھا کہ یہ لوگ انتہائی جہالت اور غفلت میں پڑے ہوئے تھے۔ ان کے عادات و خصائل سخت بگڑ چکے تھے۔ شرک اس قدر عام تھا کہ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت موجود تھے اور ہر قبیلہ کا الگ الگ بت بھی موجود تھا۔ ان میں اکثر لوگوں کا پیشہ لوٹ مار اور رہزنی تھا۔ شراب کے سخت رسیا تھے۔ فحاشی اور بے حیائی عام تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے کھڑے کر دینا ان کا معمول تھا۔ پھر ان کے قبائلی نظام کی وجہ سے قبیلوں میں ایسی جنگوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا جو ختم ہونے میں آتا ہی نہ تھا۔ غرض ہر لحاظ سے یہ قوم ایک اجڈ، تہذیب سے نا آشنا اور ایک نا تراشیدہ اور اکھڑ قوم تھی جس کی اصلاح و ہدایت کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا گیا تھا۔ اسی صورت حال سے اس بات کا بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری کس قدر سخت اور عظیم تھی۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔