ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 59

وَ امۡتَازُوا الۡیَوۡمَ اَیُّہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو! En
اور گنہگارو! آج الگ ہوجاؤ
En
اے گناهگارو! آج تم الگ ہو جاؤ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ اور اے مجرمو! آج تم الگ [54] ہو جاؤ
[54] اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ دنیا میں مجرم اور فرمانبردار سب ملے جلے رہتے ہیں اور ایسا ہی ممکن ہے کہ باپ مجرم اور بیٹا اللہ کا فرمانبردار ہو اور وہ ایک ہی جگہ رہتے ہوں۔ وہاں یہ صورت نہیں ہو گی۔ نہ وہاں نسب کا لحاظ ہو گا۔ بلکہ مجرموں کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اللہ کے فرمانبرداروں سے الگ ہو جائیں اور جن لوگوں کا وہ دنیا میں مذاق اڑایا کرتے تھے بچشم خود دیکھ لیں کہ آج ان کو کیسی کیسی نعمتیں اور آرام مہیا ہیں۔ اور دوسرا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اے گروہ مجرمین! تم باہم مل کر نہ رہو۔ بلکہ الگ الگ کھڑے ہو جاؤ۔ کیونکہ تم سے انفرادی طور پر ٹھیک ٹھاک باز پرس ہونے والی ہے۔