52۔ کہیں گے: ”افسوس! ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس [49] نے اٹھا کھڑا کیا؟“ یہ تو وہی چیز ہے جس کا رحمن [50] نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا
[49] دوسری مرتبہ صور پھونکنے کا اثر:۔
نفخہ صور اول سے تمام لوگ بے ہوش ہو جائیں گے اور اسی بے ہوشی کے عالم میں ہی ان کی موت واقع ہو گی۔ پھر جب دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو وہ قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس وقت انہیں یہ معلوم نہ ہو سکے گا کہ کیا حادثہ پیش آیا تھا اور وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔ جیسے کسی شخص کا بس سے ایکسیڈنٹ ہو جائے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔ اور اسے ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے۔ پھر جب وہ کچھ مدت بعد ہوش میں آتا اور آنکھیں کھولتا ہے تو اس وقت وہ یہ دیکھتا ہے کہ میں اس وقت کہاں ہوں اور کیسے یہاں پہنچ گیا ہوں؟ اسے اپنی بے ہوشی کی بھی کچھ خبر نہیں ہوتی یہی حال ان لوگوں کا ہو گا۔ وہ بالکل اجنبی اور دہشت ناک ماحول دیکھ کر پہلی بات جو کریں گے وہ یہ ہو گی کہ ہم تو آرام سے پڑے سو رہے تھے ہمیں کس نے جگا دیا ہے؟ انہیں کچھ اپنی موت سے پہلے کی کوئی خبر ذہن میں آئے گی نہ عذاب قبر کی۔ وہ قیامت کی ہولناکیوں کے مقابلہ میں اسے بھی بس ایک خواب ہی سمجھیں گے۔ [50] اس جملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ جب وہ اس ماحول کو سمجھنے کے لئے اپنے ذہن پر زور ڈالیں گے تو انہیں از خود یہ معلوم ہو جائے گا کہ یہ تو وہی چیز ہے جو رسول ہمیں کہا کرتے تھے اور ہم اس کا انکار کر دیا کرتے تھے۔ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کی اس سراسیمگی کی حالت میں اہل ایمان یا فرشتے انہیں مطلع کریں گے کہ یہی وہ دن ہے جس کا اللہ نے تم لوگوں سے وعدہ کیا تھا اور جب بھی رسول تمہیں اللہ کے اس وعدہ اور اس قیامت کے دن سے ڈراتے تھے تو ہر بار تم یہی کہہ دیتے تھے کہ وہ کب ہو گا سو آج اپنی آنکھوں سے وہ دن دیکھ لو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔