ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 46

وَ مَا تَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ مِّنۡ اٰیٰتِ رَبِّہِمۡ اِلَّا کَانُوۡا عَنۡہَا مُعۡرِضِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اور ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی مگر وہ اس سے منہ پھیرنے والے ہوتے ہیں۔ En
اور ان کے پاس ان کے پروردگار کی کوئی نشانی نہیں آتی مگر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں
En
اور ان کے پاس تو ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں آئی جس سے یہ بے رخی نہ برتتے ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ اور جب بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی [45] آتی ہے تو وہ اس سے اعراض ہی کر جاتے ہیں
[45] نشانی سے مراد خرق عادت یا معجزہ بھی ہو سکتا ہے اور قرآن کی آیات بھی کہ قرآن کی ہر آیت بذات خود ایک معجزہ ہے۔ اور آفاق و انفس کی آیات بھی یعنی جب بھی کوئی نشانی ان کے سامنے آتی یا لائی جاتی ہے تو اس میں غور و فکر کرنا بلکہ اسے توجہ سے سننا یا دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔