ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 39

وَ الۡقَمَرَ قَدَّرۡنٰہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالۡعُرۡجُوۡنِ الۡقَدِیۡمِ ﴿۳۹﴾
اور چاند، ہم نے اس کی منزلیں مقرر کر دیں، یہاں تک کہ وہ دوبارہ پرانی (کھجور کی) ٹیڑھی ڈنڈی کی طرح ہو جاتا ہے۔ En
اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے
En
اور چاند کی ہم نے منزلیں مقررکر رکھی ہیں، یہاں تک کہ وه لوٹ کر پرانی ٹہنی کی طرح ہو جاتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں تا آنکہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح [37] رہ جاتا ہے۔
[37] اشکال قمر اور منازل قمر:۔
سورج ہمیشہ مشرق سے طلوع ہو کر شام کو مغرب میں غروب ہو جاتا ہے۔ اور اس کی شکل بھی ایک ہی جیسی رہتی ہے لہٰذا اس کے معمول میں کبھی فرق نہیں آتا۔ جبکہ چاند کا مسئلہ اس سے یکسر مختلف ہے۔ وہ کسی بھی قمری مہینے کی ابتدا میں مغرب کی سمت نمودار ہوتا ہے اور بالکل ایک پھانک سی نظر آتا ہے جسے قرآن نے کھجور کی پرانی اور خشک ٹہنی سے تشبیہ دی ہے اور اسے ہلال کہتے ہیں۔ دوسرے دن یہ ذرا موٹا بھی ہو جاتا ہے اور مشرق کی طرف ہٹ کر نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ روز موٹا ہوتا جاتا ہے اور شکلیں بدلتا رہتا ہے۔ اور چاند بنتا جاتا ہے حتیٰ کہ سات دن بعد عین سر پر طلوع ہوتا ہے اور نصف دائرہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے پھر چودھویں دن مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور پورا گول ہوتا ہے۔ گویا ہر روز وہ نئی شکل بدلتا ہے اور ہر روز اس کی منزل جداگانہ ہوتی ہے پھر یہ گھٹنا شروع ہو جاتا ہے پھر پہلے کی طرح پھانک کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاند کے لئے مقرر کردہ منزلیں ہیں۔