ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 20

وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ رَجُلٌ یَّسۡعٰی قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾
اور شہر کے سب سے دور کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے میری قوم! ان رسولوں کی پیروی کرو۔ En
اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم پیغمبروں کے پیچھے چلو
En
اور ایک شخص (اس) شہر کے آخری حصے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے میری قوم! ان رسولوں کی راه پر چلو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اس وقت شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا [22] ہوا آیا اور کہنے لگا: ”میری قوم کے لوگو! ان رسولوں کی پیروی اختیار کر لو
[22] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان رسولوں اور ان کی قوم میں جو مکالمہ اوپر مذکور ہوا ہے وہ کوئی چند دنوں پر مشتمل نہیں بلکہ کئی سالوں کی مدت پر محیط تھا اور رسولوں کی دعوت اور ان کے انکار اور دھمکیوں کا چرچا اس شہر کے علاوہ ارد گرد کے مضافات میں بھی پھیل چکا تھا۔ چنانچہ انہیں مضافات میں سے ایک صالح مرد جس کا نام حبیب بتایا جاتا ہے نے جب یہ سنا کہ شہر والے اپنے رسولوں کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور مبادا وہ کوئی ایسی حرکت کر نہ بیٹھیں، تو اس سے برداشت نہ ہو سکا۔ وہ خود ایک عبادت گزار انسان تھا۔ اور اپنے ہاتھوں کی حلال کمائی کھاتا تھا۔ اور اچھی شہرت رکھتا تھا، یہ باتیں سنتے ہی دوڑتا ہوا اس کی طرف آیا تاکہ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھائے کہ وہ ان رسولوں کی مخالفت سے باز آجائیں۔