ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 19

قَالُوۡا طَآئِرُکُمۡ مَّعَکُمۡ ؕ اَئِنۡ ذُکِّرۡتُمۡ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾
انھوں نے کہا تمھاری نحوست تمھارے ساتھ ہے۔ کیا اگر تمھیں نصیحت کی جائے، بلکہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ En
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو
En
ان رسولوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے، کیا اس کو نحوست سمجھتے ہو کہ تم کو نصیحت کی جائے بلکہ تم حد سے نکل جانے والے لوگ ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ وہ کہنے لگے: ”تمہاری نحوست تو تمہارے اپنے ساتھ [20] لگی ہے۔ اگر تمہیں نصیحت کی جائے (تو کیا اسے تم نحوست سمجھتے ہو؟) بلکہ تم ہو ہی حد سے گزرے [21] ہوئے لوگ۔
[20] یعنی تمہاری نحوست کی اصل وجہ وہ نہیں جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ پہلے تمہارے پاس کوئی تنبیہ کرنے والا نہیں آیا تھا۔ لہٰذا تم اللہ کی طرف سے معذور تھے۔ اب ہم نے اگر تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا تو تم نے اس سے سرتابی کی اور اکڑ بیٹھے۔ اس کی پاداش میں تمہیں اللہ کی طرف سے یہ سزا مل رہی ہے اور یہ تمہارے اپنے ہی اعمال کی نحوست ہے کہیں باہر سے نہیں آئی۔
[21] یعنی تمہارا انداز فکر اس قدر بگڑ چکا ہے کہ جو لوگ تمہارے خیر خواہ ہیں اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ان کو تم جان سے مار ڈالنے یا تکلیفیں پہچانے کی دھمکیاں دیتے ہو۔ اور اللہ کی نافرمانی پر اگر تمہیں کوئی دکھ پہنچے تو اس کا ذمہ دار بھی ہمیں ٹھہراتے ہو۔ کچھ انصاف کی بات کرو۔ تم تو عقل اور آدمیت کی سب حدیں پھاند گئے ہو۔