ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ يس (36) — آیت 11

اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکۡرَ وَ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَبَشِّرۡہُ بِمَغۡفِرَۃٍ وَّ اَجۡرٍ کَرِیۡمٍ ﴿۱۱﴾
توُ تو صرف اسی کو ڈراتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمان سے بن دیکھے ڈرے۔ سو اسے بڑی بخشش اور باعزت اجر کی خوش خبری دے۔ En
تم تو صرف اس شخص کو نصیحت کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور خدا سے غائبانہ ڈرے سو اس کو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو
En
بس آپ تو صرف ایسے شخص کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت پر چلے اور رحمٰن سے بےدیکھے ڈرے، سو آپ اس کو مغفرت اور باوقار اجر کی خوش خبریاں سنا دیجیئے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ آپ تو صرف اسے ڈرا سکتے ہیں جو اس ذکر (قرآن) کی پیروی کرے اور بن دیکھے رحمان [11] سے ڈرے، ایسے لوگوں کو آپ مغفرت اور با عزت اجر کی خوشخبری دے دیجئے۔
[11] بن دیکھے رحمان سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو آخرت کے دن پر اور اللہ کے حضور اپنے اعمال کی باز پرس پر ٹھیک طرح سے ایمان رکھتے ہیں اور اپنے اس ایمان بالآخرت کے عقیدے کو سستی نجات کے عقیدے سے خراب نہیں کر لیتے اور ایسے لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ دنیا میں اللہ سے ڈر کر انتہائی محتاط زندگی گزارتے ہیں۔ اور ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے گناہوں اور خطاؤں کی بخشش کے مستحق ہوتے ہیں۔ گناہ تو ان کے معاف کر دیئے جاتے ہیں اور نیک اعمال کا اجر بہت بڑھ چڑھ کر ملتا ہے۔