پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی میانہ رو ہے اور ان میں سے کوئی نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، اللہ کے حکم سے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔
En
پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھیرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا۔ تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اور کچھ میانہ رو ہیں۔ اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ یہی بڑا فضل ہے
پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ﻇلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں۔ یہ بڑا فضل ہے
En
32۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب [37] کا وارث بنایا جنہیں ہم نے (اس وراثت کے لئے) اپنے بندوں میں سے چن لیا۔ پھر ان میں سے کوئی تو اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے۔ کوئی میانہ رو ہے اور کوئی اللہ کے اذن سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے۔ یہی بہت بڑا فضل ہے۔
[37] اعمال کے لحاظ سے تین قسم کے مسلمان اور ان کا انجام:۔
اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ اس کے اولین وارث صحابہ کرامؓ کی جماعت ہے۔ اس آیت سے ان کی بہت فضیلت ثابت ہوئی۔ پھر ان کے بعد درجہ بدرجہ اور نسل بعد نسل آپ کی ساری امت بھی اس کتاب کی وارث ہے۔ پھر ان وارثوں کے تین طبقات ہیں یا تین قسم کے گروہ ہیں۔ ایک وہ جو اپنے نفس پر ظلم کر رہے ہیں۔ یعنی وہ اللہ کے باغی نہیں ہیں مشرک بھی نہیں ہیں۔ کتاب و سنت کی اتباع کے داعی بھی ہیں۔ مگر ان کے اعمال ان کے دعوے کی پوری طرح تصدیق نہیں کرتے۔ وہ خطا کار ضرور ہیں مگر اپنے جرائم پر نادم ضرور ہوتے ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو نیک اعمال بجا لا رہا ہے تاہم کبھی کبھار ان سے گناہ کے کام بھی ہوتے ہیں۔ یہ درمیانہ درجہ کے لوگ ہیں۔ اور ایک وہ لوگ ہیں جو ہر نیکی کے کام کی طرف آگے بڑھ کر لپکتے ہیں۔ ان کی آرزو یہ رہتی ہے کہ جتنی زیادہ بھلائیاں سمیٹ سکتے ہیں سمیٹ لیں۔ وہ گناہوں سے اجتناب میں بھی ممکن حد تک احتیاط کرتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تینوں قسم کے لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير] اور ان میں فرق یہ ہو گا کہ افضل قسم کے لوگ بلا حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ درمیانہ طبقہ سے حساب تو لیا جائے گا مگر یہ آسان سا اور سرسری قسم کا حساب ہو گا اور زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ اور تیسرے درجہ کے لوگوں کو روک لیا جائے گا اور قیامت کا سارا دن جو پچاس ہزار سال کا ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو سکیں گے۔ پھر اس مدت کے اختتام پر اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی فرمائے گا اور انہیں بھی داخلہ کی اجازت مل جائے گی۔ تاہم یہ قیامت کے دن کی سختیاں ضرور برداشت کریں گے اور اللہ کا فضل تو ان سب پر ہو گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں