ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ فاطر (35) — آیت 31

وَ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ ہُوَ الۡحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِعِبَادِہٖ لَخَبِیۡرٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۳۱﴾
اور وہ جو ہم نے تیری طرف کتاب میں سے وحی کی ہے وہی حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے ہے۔ بے شک اللہ اپنے بندوں کی یقینا پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ En
اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے
En
اور یہ کتاب جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے طور پر بھیجی ہے یہ بالکل ٹھیک ہے جو کہ اپنے سے پہلی کتابوں کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے واﻻ خوب دیکھنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ (اے نبی!) جو کتاب ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے وہی حق [36] ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے با خبر اور انہیں دیکھنے والا ہے۔
[36] قرآن کے حق ہونے کا مطلب زندگی کے حقائق کا لحاظ رکھنا ہے:۔
وہ حق اس لئے ہے کہ وہ اس ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جس نے انسان کو بنایا ہے۔ جتنا وہ انسان کی فطرت سے واقف ہو سکتا ہے دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کتاب کے جملہ احکام و ارشادات انسان کی فطرت کے مطابق بھی ہیں اور پوری انسانیت کے مصالح پر مبنی ہیں۔ اور بنی نوع انسان کی فلاح کے ضامن بھی ہیں۔ وہ ذات اپنے بندوں کی فطرت اور ان کے حالات سے پوری طرح با خبر ہے۔ اسی لئے اس کے بعض احکام تو غیر متبدل اور دائمی ہیں جو سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ اسی لحاظ سے یہ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور بعض نئے احکام بھی ہیں۔ بعض میں تبدیلی بھی کی گئی ہے اور یہ سب کچھ بندوں کے حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ پھر وہ اپنے کمزور اور معذور بندوں کو رخصتیں بھی عطا فرماتا ہے۔ اور حالات کے مطابق احکام میں رعایتیں بھی ملحوظ رکھتا ہے اس لئے کہ وہ اپنے سب بندوں کے حالات سے پوری طرح با خبر ہے۔