30۔ تاکہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنی مہربانی سے کچھ زیادہ بھی دے۔ بلا شبہ وہ معاف کرنے والا ہے اور قدردان [35] ہے۔
[35] اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے اعمال کی قدردانی، پیاسے کو پانی پلانے اور راہ سے کانٹے ہٹانے پر بخشش:۔
یعنی اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا ایک تنگ ظرف آقا کا معاملہ اپنے ملازم سے ہوتا ہے۔ جو بات بات پر اپنے ملازم پر گرفت تو کرتا ہے مگر اس کی خدمات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اللہ کا اپنے بندوں سے معاملہ اس سے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے بندوں کی چھوٹی موٹی غلطیاں معاف کر دیتا ہے اور ان سے ان کی باز پرس بھی نہیں کرتا اور انسان جو نیک اعمال بجا لاتا ہے ان کا ان کے اجر سے بہت زیادہ بدلہ عطا فرماتا ہے۔ اسے اپنے بندے کی کوئی بھی ادا پسند آجائے تو اسے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ایک شخص نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کے مارے گیلی مٹی چاٹ رہا تھا۔ اس نے اپنا موزا اتارا اور اس میں پانی بھر بھر کر اس کو پلانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گیا۔ اللہ نے اس کے اس کام کی قدر کی اور اس کو جنت عطا فرمائی“ [بخاری۔ کتاب الوضوء۔ باب اذاشرب الکلب فی الاناء] نیز سیدنا ابو ہریرہؓ ہی سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”ایک مرتبہ ایک شخص کہیں جا رہا تھا اس نے راستہ میں کانٹوں والی ایک ٹہنی دیکھی جسے اس نے راہ سے ہٹا دیا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کا یہ کام بہت پسند آیا اور اسے بخش دیا“ [بخاری۔ کتاب الاذان۔ باب فضل التھجیر الی الظھر]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں