جو شخص عزت چاہتا ہو سو عزت سب اللہ ہی کے لیے ہے۔ اسی کی طرف ہر پاکیزہ بات چڑھتی ہے اور نیک عمل اسے بلند کرتا ہے اور جو لوگ برائیوں کی خفیہ تدبیر کرتے ہیں ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اور ان لوگوں کی خفیہ تدبیر ہی برباد ہو گی۔
En
جو شخص عزت کا طلب گار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے۔ اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں۔ اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا
جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے، تمام تر ستھرے کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے، جو لوگ برائیوں کے داؤں گھات میں لگے رہتے ہیں ان کے لئے سخت تر عذاب ہے، اور ان کا یہ مکر برباد ہوجائے گا
En
10۔ جو شخص عزت چاہتا ہے تو عزت [14] تو تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے۔ پاکیزہ کلمات اسی کی طرف چڑھتے ہیں [15] اور صالح عمل انہیں اوپر اٹھاتا ہے اور جو لوگ بری چالیں [16] چلتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے، اور ان کی چال ہی برباد ہونے والی ہے۔
[14] مشرکین مکہ کی حرم کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں عزت کی جاتی تھی وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو یہ سارا بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ انہیں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ یہ عزت بھی تمہیں کعبہ کے متولی اور پاسبان ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔ اور کعبہ کو حرم بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ تم اور تمہارے معبودوں میں یہ طاقت نہیں تھی کہ تم مکہ کو حرم بنا سکتے۔ اب اگر تم کعبہ کے مالک ہی کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ہو تو سوچ لو تمہاری یہ عزت کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ عزت تو صرف اسے ملے گی جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہو کیونکہ تمام تر عزت کا سرچشمہ تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے تم لوگ اس کے دشمن بن کر کبھی عزت نہ پا سکو گے۔
[15] پاکیزہ کلمہ اور اعمال صالحہ کا باہمی تعلق:۔
پاکیزہ کلمات اور پاکیزہ اعمال دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اور دونوں ایک دوسرے کے مؤید اور مددگار ہیں۔ پاکیزہ کلمات یا اقوال اللہ کی طرف اس وقت چڑھتے ہیں جب کہ ان کی تائید اعمال صالحہ سے بھی ہو رہی ہو۔ اور اگر عمل پاکیزہ اقوال کے خلاف ہو تو یہ پاکیزہ اقوال بھی نہ اوپر چڑھ سکتے ہیں نہ اللہ کے ہاں مقبول ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اعمال صالحہ بھی اسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتے ہیں جبکہ ان کی بنیاد پاکیزہ اقوال یا درست عقیدہ پر ہو۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو گا تو ایسے اعمال بھی نہ اوپر چڑھیں گے اور نہ ہی مقبولیت کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکیزہ کلمات میں سب سے پہلے نمبر پر تو کلمہ طیبہ ہے جس میں شرک کا پورا رد موجود ہے اور توحید خالص کا اقرار ہے۔ پھر اللہ کا ذکر، دعا، قرآن کی تلاوت وغیرہ آخرت وغیرہ سے متعلق ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ یہ کلمات اللہ کی طرف بلند ضرور ہوتے ہیں مگر اس شرط پر کہ انہیں اعمال صالحہ یا ان اقوال پاکیزہ کے مطابق افعال کی تائید بھی حاصل ہو۔ یہی صورت اعمال صالحہ کی ہے ان کی مقبولیت کی شرط یہ ہے کہ ان کی بنیاد اقوال پاکیزہ پر اٹھی ہو۔
[16] کفار مکہ کی چال کیسے ان پر الٹ پڑی؟
بُری چالوں سے مراد کفار کی ہر وہ تدبیر ہے جس سے اسلام کی راہ روکی جا سکتی ہو۔ اور کفار مکہ کی تو ساری زندگی ہی بری چالوں میں گزری تھی۔ تا آنکہ مکہ فتح ہو گیا اور کفر کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔ ویسے تو کفار مکہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا خاتمہ کرنے کی بھی کئی کوششیں کر چکے تھے تاہم ان سب سے زیادہ خطرناک چال وہ تھی جو دار الندوہ میں ابو جہل نے پیش کی تھی اور جس پر شیطان بھی خوش ہو گیا تھا۔ کہ واقعی یہ چال بڑے بلند درجہ کی چال ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے سورۃ انفال کی آیت نمبر 30 کا حاشیہ) اور یہی تدبیر ان کافروں کی ہلاکت کا باعث یوں بنی کہ ان کی اس سازش کے فوراً بعد اللہ نے اپنے پیغمبر کو صحیح و سالم نکال کر مدینہ میں آباد کیا۔ کفار نے بدلہ لینے کی ٹھانی تو جنگ بدر کے مقام پر اللہ نے انہیں شکست فاش سے دوچار کر دیا۔ ان کے ستر بڑے بڑے سرغنے قتل ہو گئے۔ جنہیں نہایت ذلت کے ساتھ قلیب بدر میں پھینک دیا گیا۔ اور اتنے ہی آدمی قید ہو گئے تو ان کے سب کس بل نکل گئے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔