49۔ آپ کہئے کہ حق آ گیا اور باطل [74] نے تو نہ پہلی بار کچھ پیدا کیا تھا نہ دوبارہ کچھ کر سکے گا۔
[74] جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے :۔
یہاں باطل سے بعض لوگوں نے مراد معبودان باطل لیا ہے۔ یعنی ان باطل معبودوں نے کائنات میں پہلے بھلا کون سی چیز پیدا کی تھی کہ اب وہ دوبارہ وہ کچھ کر سکیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ معبود قطعی بے اختیار اور مجبور محض ہیں۔ تم لوگ ان سے خواہ مخواہ ہی کئی طرح کی توقعات وابستہ کئے بیٹھے ہو۔ اور اگر باطل کو اپنے ہی معنوں میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ باطل کو کبھی استقلال نصیب نہیں ہوتا۔ جسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ کسی بھی بات کی تحقیق شروع کرو۔ باطل کو فوراً وہاں سے رخصت ہونا پڑے گا۔ باطل کی ضد حق ہے۔ یعنی جوں جوں حق آجاتا ہے، باطل از خود رخصت ہوتا چلا جاتا ہے۔ فتح مکہ کے دن جب آپ اپنی چھڑی سے بتوں کو گرا رہے تھے تو اس وقت ساتھ ساتھ یہ آیت بھی پڑھتے جاتے تھے۔ ﴿وَقُلْجَاءَالْحَقُّوَزَهَقَالْبَاطِلُاِنَّالْبَاطِلَكَانَزَهُوْقًا﴾
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔