ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ سبأ (34) — آیت 41

قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۴۱﴾
وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے۔ En
وہ کہیں گے تو پاک ہے تو ہی ہمارا دوست ہے۔ نہ یہ۔ بلکہ یہ جِنّات کو پوجا کرتے تھے۔ اور اکثر انہی کو مانتے تھے
En
وه کہیں گے تیری ذات پاک ہے اور ہمارا ولی تو تو ہے نہ کہ یہ بلکہ یہ لوگ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں کے اکثر کا ان ہی پر ایمان تھا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ وہ کہیں گے: ”تو پاک ہے ہمارا سرپرست تو ہے نہ کہ یہ (مشرک) بلکہ یہ لوگ تو جنوں کو پوجتے تھے [63] اور ان میں اکثر انہی پر ایمان [64] رکھتے تھے۔
[63] اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت کی جائے وہ دراصل شیطان کی عبادت ہوتی ہے :۔
یہاں جن سے مراد شیاطین ہیں اور قرآن میں یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے سوال کے جواب میں کہیں گے ہمیں ان بد بخت مشرکوں سے کیا سروکار جنہوں نے تجھے چھوڑ کر ہمیں اپنا سرپرست سمجھ رکھا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا بھی سرپرست تو ہی ہے اور ان کا بھی تو ہی ہے اور تھا۔ مگر انہوں نے جو ہمیں اپنا سرپرست سمجھ رکھا تھا۔ تو ہم نے انہیں ایسی بات قطعاً نہیں کہی تھی۔ یہ پٹی ان کو شیطان نے پڑھائی تھی۔ اسی کی ترغیب پر یہ ہماری پوجا کرتے رہے تو دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ ان شیطانوں کی پوجا کر رہے تھے جن کے یہ فرمانبردار بن کر ان کے کہنے پر لگ گئے تھے۔
[64] یعنی کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا کہ جس غرض کے لئے انہوں نے کسی بت کے آگے نذریں نیازیں چڑھائیں تو ان کی غرض پوری ہو گئی یا بت کے اندر سے شیطان بول پڑا تو ایسی اتفاقی باتوں سے ان کا اعتقاد اور بھی پختہ ہو جاتا تھا۔ حالانکہ ان کی غرض بھی صرف وہی پوری ہوتی تھی جن کا پورا ہونا اللہ کی طرف سے پہلے ہی مقدر ہو چکا ہوتا تھا۔