ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ سبأ (34) — آیت 4

لِّیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۴﴾
تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے سراسر بخشش اور باعزت رزق ہے۔ En
اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے
En
تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ (اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ایسے لوگوں کے لئے بخشش [7] اور عزت و اکرام کی روزی ہو گی۔
[7] یہ قیامت یا اخروی زندگی پر عقلی دلیل ہے۔ اس دنیا میں بے شمار ایسے افراد موجود ہیں جنہوں نے ایمان لا کر راہ حق میں بے شمار جانی اور مالی قربانیاں دیں اور تمام عمر فقر و فاقہ پریشانیوں اور کفار کے ہاتھوں ظلم وستم سہنے میں گزارا۔ کیا یہ انصاف کا تقاضا نہیں کہ انھیں ان کے اعمال کی جزا دی جائے؟ اور دکھوں کے بدلے انھیں انعامات سے نوازا جائے؟ لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ انسانوں کو ایک دوسری زندگی عطا فرمائے۔ جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ دیا جائے۔