کہہ دے بے شک میرا رب رزق فراخ کرتاہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے اور تم جو بھی چیز خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے اور وہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
En
کہہ دو کہ میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے اور تم جو چیز خرچ کرو گے وہ اس کا (تمہیں) عوض دے گا۔ اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے
En
39۔ آپ ان سے کہئے کہ: ”میرا پروردگار اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے رزق فراخ کر دیتا [59] ہے اور جس کے لئے چاہے کم کر دیتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو تو وہی اس کی جگہ تمہیں اور دے دیتا [60] ہے اور وہی سب سے بہتر رازق [61] ہے“
[59] یعنی رزق کی فراخی نہ اللہ کی رضا کا معیار ہے نہ انسان کی اپنی فلاح کا۔ بلکہ رزق کا تعلق صرف مشیت الٰہی سے ہے۔ جس میں اس کی اپنی کئی حکمتیں مضمر ہیں۔ بسا اوقات وہ ظالموں کو زیادہ رزق دے کر انہیں عذاب شدید کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ اپنے فرمانبرداروں کو فقر و فاقہ میں مبتلا کر کے ان کے درجات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ دولت بذات خود ایک ڈھلتی چھاؤں ہے۔ ایک ہی آدمی کے پاس کبھی زیادہ آجاتی ہے پھر اسی سے چھن بھی جاتی ہے۔ پھر جب مال و دولت میں ہی استقرار و استقلال نہیں تو پھر اسے خیر و شر کا معیار کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
[60] اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رزق زیادہ ہوتا ہے :۔
اس جملہ میں صدقہ و خیرات کرنے والے لوگوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری ہے اور ایک ایسی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ جو بارہا لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اور اللہ کی رضا کے لئے خلوص نیت کے ساتھ انسان جو کچھ بھی خرچ کرتا ہے۔ اللہ اس کی جگہ اس خرچ کئے ہوئے مال جتنا یا اس سے زیادہ دے دیتا ہے وہ کس ذریعہ سے دیتا ہے اس کی کوئی مادی توجیہ پیش کی جا سکتی ہے۔ تاہم ہمارا تجربہ اور ہمارا وجدان دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور درج ذیل احادیث بھی اسی مضمون کی تائید و توثیق کرتی ہیں: 1۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اے آدم کے بیٹے! تو (دوسروں پر) خرچ کر۔ میں تجھ پر خرچ کروں گا“ [بخاري۔ كتاب الزكوة۔ باب الصدقة فيها۔] 2۔ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت فرمائی کہ روپیہ پیسہ ہتھیلی میں بند کر کے مت رکھو ورنہ اللہ بھی تمہارا رزق بند کر کے رکھے گا۔ بلکہ جہاں تک ہو سکے خیرات کرتی رہو۔ [بخاري۔ كتاب الزكوة۔ باب الصدقه فيما استطاع] 3۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندوں پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن صبح دو فرشتے نازل نہ ہوں۔ ان میں ایک یوں دعا کرتا ہے ”یا اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدل دے“ اور دوسرا یوں دعا کرتا ہے ”یا اللہ بخیل کا مال تباہ کر دے“ [بخاري۔ كتاب الزكوة۔ باب قوله فاما من اعطيٰ واتقي] 4۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کا رزق کشادہ اور اس کی عمر دراز ہو وہ رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے“ [بخاری۔ کتاب البیوع۔ باب من احب السبط فی الرزق] [61] اللہ تعالیٰ کی کئی صفات ایسی ہیں جو انسانوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حقیقی رازق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مگر ہر انسان اپنے بال بچوں کو رزق مہیا کرتا ہے۔ مالک اپنے ملازموں کو رزق عطا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب ایسی صورت ہو تو اللہ کے لئے کوئی مزید امتیازی صفت بھی استعمال ہو گی۔ گویا اگر انسان کسی کا رزاق ہو سکتا ہے تو اللہ خیر الرازقین ہے یعنی سب کو رزق دینے والا بھی ہے اور بہتر رزق دینے والا بھی ہے۔ اسی طرح اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے تو انسان بھی تخلیق و ایجاد کرتا ہے۔ اس نسبت سے انسان کو موجد اور خالق تو کہہ سکتے ہیں مگر احسن الخالقین اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔