اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا ہم ہرگز نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے پہلے ہے، اور کاش! تو دیکھے جب یہ ظالم اپنے رب کے پاس کھڑے کیے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک دوسرے کی بات رد کر رہا ہوگا، جو لوگ کمزور سمجھے گئے تھے ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے، کہہ رہے ہوں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لانے والے ہوتے۔
En
اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن کو مانیں گے اور نہ ان (کتابوں) کو جو ان سے پہلے کی ہیں اور کاش (ان) ظالموں کو تم اس وقت دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے سے ردوکد کر رہے ہوں گے۔ جو لوگ کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوجاتے
اور کافروں نے کہا کہ ہم ہرگز نہ تو اس قرآن کو مانیں نہ اس سے پہلے کی کتابوں کو! اے دیکھنے والے کاش کہ تو ان ﻇالموں کو اس وقت دیکھتا جب کہ یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوئے ایک دوسرے کو الزام دے رہے ہوں گے کمزور لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مومن ہوتے
En
31۔ اور کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ تو اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس کتاب پر جو اس سے پہلے موجود [46] ہے۔ کاش آپ ان ظالموں کو دیکھتے جب وہ اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے اور ایک دوسرے [47] کی بات کا جواب دیں گے۔ جو لوگ (دنیا میں) کمزور سمجھے جاتے تھے وہ بڑا بننے والوں [48] سے کہیں گے کہ ”اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے“
[46] یعنی مشرکین مکہ صرف قرآن کے ہی منکر نہ تھے۔ بلکہ پہلی آسمانی کتابوں مثلاً تورات، انجیل وغیرہ کے بھی منکر تھے اور ان کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ ان سب کتابوں کے مرکزی اور بنیادی مضامین ملتے جلتے تھے۔ سب کتابوں میں توحید کی دعوت دی گئی تھی اور شرک کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا تھا۔ اسی طرح عقیدہ آخرت کے بارے میں بھی سب الہامی کتابیں ایک دوسری کی تائید و توثیق کرتی تھیں۔ اور یہی دو باتیں تھیں جن پر محاذ آرائی شروع ہو چکی تھی۔ اور مشرکین مکہ انھیں کسی قیمت پر بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ لہٰذا سب الہامی کتابوں کا انکار کر دیتے تھے۔ [47] قرآن کریم میں ان دو فریقوں کا مکالمہ بہت سے مقامات پر مذکور ہے۔ ایک فریق مطیع ہے یعنی کمزور قسم کے لوگ جو اپنے بڑوں کی اطاعت کرتے رہے۔ اور دوسرا فریق مطاع ہے یعنی بڑے لوگ جن کی اطاعت کی جاتی رہی۔ پھر ان بڑے لوگوں میں حکمران بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ سیاسی لیڈر، چودھری بھی، مولوی بھی، پروفیسر بھی یعنی ہر وہ شخص جو دینی یا دنیوی لحاظ سے عام لوگوں پر فوقیت رکھتا ہو۔ اور اس کی بات تسلیم کی جاتی رہی ہو اور یہ مکالمہ جہنم میں داخلہ سے پیشتر ہو گا۔ تاہم اس وقت تک سب لوگوں کو اپنا انجام معلوم ہو چکا ہو گا۔
[48] مطیع اور مطاع لوگوں کا مکالمہ :۔
کمزور لوگ یا اطاعت کرنے والے اپنے بڑے بزرگوں سے کہیں گے کہ ہماری گمراہی کا باعث تو تم ہی لوگ تھے۔ اگر تم لوگ ہمیں انبیاء کے خلاف استعمال نہ کرتے تو ہم یقیناً ان پر ایمان لے آتے اور اس برے انجام سے ہمیں دو چار نہ ہونا پڑتا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔