کہہ دے پکارو ان کو جنھیں تم نے اللہ کے سوا گمان کر رکھا ہے، وہ نہ آسمانوں میں ذرہ برابر کے مالک ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔
En
کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے
کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے
En
22۔ (اے نبی!) آپ ان سے کہئے کہ: جن کو تم اللہ کے سوا (الٰہ) سمجھ رہے ہو انھیں پکار کر دیکھ لو۔ [36] وہ تو آسمانوں اور زمین کے موجودات میں ذرہ بھر بھی اختیار نہیں رکھتے، نہ ہی ان موجودات میں ان کی کچھ شرکت ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے
[36] یعنی ان کفار مکہ سے کہئے کہ میرا پروردگار وہ ہے جو کائنات کی ہر چیز کا خالق ہے جو اس کا شکر ادا کرتا ہے اسے وہ نعمتوں سے نوازتا ہے۔ حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ اللہ کے شاکر بندے تھے تو اللہ نے انھیں بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ اور قوم ”سبا“ نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی نا شکری کی تو اللہ نے انھیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔ اب تم بتلاؤ کہ جن معبودوں کو تم پکارتے ہو ان میں سے کوئی ایسا کام کر سکتا ہے؟ اگر تمہیں کچھ شک ہے تو انھیں پکار کے دیکھ لو کہ کیا وہ آڑے وقت کسی کے کام آ سکتے ہیں؟ اس بات کو اس پہلو سے بھی سمجھو کہ کائنات میں کسی بھی چیز پر ان کا کچھ اختیار ہے؟ نہ انہوں نے کسی چیز کو بنایا ہے، نہ ہی کسی چیز کی تخلیق میں ان کی شرکت ہے۔ نہ ہی ان کا ظاہری اور باطنی اسباب پر کچھ کنٹرول ہے پھر وہ تمہاری بگڑی کو سنوار کیسے سکتے ہیں اور فائدہ کیا پہنچا سکتے ہیں؟ فائدہ یا نقصان تو وہی ہستی پہنچا سکتی ہے جس کے پاس کچھ ایسے اختیارات بھی ہوں۔ اور جو چیز خود بے اختیار اور مجبور محض ہے اس سے نفع یا نقصان کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔