ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ سبأ (34) — آیت 20

وَ لَقَدۡ صَدَّقَ عَلَیۡہِمۡ اِبۡلِیۡسُ ظَنَّہٗ فَاتَّبَعُوۡہُ اِلَّا فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۰﴾
اور بلاشبہ یقینا ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچا کر دکھایا تو مومنوں کے ایک گروہ کے سوا وہ سب اس کے پیچھے چل پڑے۔ En
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا خیال سچ کر دکھایا کہ مومنوں کی ایک جماعت کے سوا وہ اس کے پیچھے چل پڑے
En
اور شیطان نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا یہ لوگ سب کے سب اس کے تابعدار بن گئے سوائے مومنوں کی ایک جماعت کے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ ان لوگوں کے متعلق ابلیس نے اپنا گمان درست پایا [33]۔ چنانچہ مومنوں کے گروہ کے سوا سب نے اسی کی پیروی کی۔
[33] جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کر کے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا تو ابلیس نے سجدہ سے انکار کر دیا تھا اور جب آدم و ابلیس کی آپس میں ٹھن گئی تو ابلیس آدم کو چکمہ دینے پر اور اللہ کی نافرمانی پر اکسانے میں کامیاب ہو گیا تو اس وقت ہی اس نے یہ خیال ظاہر کر دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کو برملا کہہ دیا تھا کہ میں اولاد آدم کے اکثر حصہ کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ تھوڑے ہی تیرے ایسے بندے ہوں گے جو تیرے شکر گزار بن کر رہیں گے۔ قوم سبا کے حالات سے بھی یہی نتیجہ سامنے آتا ہے اور دوسری اقوام کے حالات سے بھی کہ ابلیس فی الواقعہ ایسا گمان کرنے میں سچا تھا۔