ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ سبأ (34) — آیت 2

یَعۡلَمُ مَا یَلِجُ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا یَخۡرُجُ مِنۡہَا وَ مَا یَنۡزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعۡرُجُ فِیۡہَا ؕ وَ ہُوَ الرَّحِیۡمُ الۡغَفُوۡرُ ﴿۲﴾
وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے اور وہی نہایت رحم والا، بے حد بخشنے والا ہے۔ En
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے
En
جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے جو آسمان سے اترے اور جو چڑھ کر اس میں جائے وه سب سے باخبر ہے۔ اور وه مہربان نہایت بخشش واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے یا اس سے نکلتا ہے نیز جو کچھ آسمان سے اترتا اور جو کچھ آسمان [3] میں چڑھتا ہے، وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ رحم کرنے والا ہے اور معاف [4] کرنے والا ہے
[3] زمین میں داخل ہونے والی، زمین سے نکلنے والی، زمین پر اترنے والی اور زمین سے چڑھنے والی اشیاء :۔
زمین میں داخل ہونے والی چیزیں یہ ہیں: ہر قسم کی نباتات کے بیج، بارش کا پانی، تمام جانوروں کے مردہ اجسام۔ اور حشرات الارض وغیرہ اور زمین سے نکلنے والی چیزیں مثلاً کھیتی، پودے، درخت، معدنیات۔ کئی قسم کے تیل اور گیسیں وغیرہ اور آسمان سے اترنے والی چیزیں مثلاً بارش اللہ کی رحمت و برکت، وحی الٰہی، فرشتے وغیرہ اور جو آسمان کی طرف چڑھنے والی چیزیں مثلاً دعا، فرشتے، انسانوں کے اعمال وغیرہ ان سب انواع اور ان کی جزئیات سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔
[4] یعنی انسانوں کی بداعمالیوں پر انھیں فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کو سنبھلنے کی مہلت دیتا ہے اور جو سنبھل جائے تو اس کی ساتھ لغزشیں معاف بھی کر دیتا ہے۔