ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ سبأ (34) — آیت 19

فَقَالُوۡا رَبَّنَا بٰعِدۡ بَیۡنَ اَسۡفَارِنَا وَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فَجَعَلۡنٰہُمۡ اَحَادِیۡثَ وَ مَزَّقۡنٰہُمۡ کُلَّ مُمَزَّقٍ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿۱۹﴾
تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے، اور انھوں نے اپنی جانوںپر ظلم کیا تو ہم نے انھیں کہانیا ں بنا دیا اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، ہر طرح ٹکڑے ٹکڑے کرنا، بلاشبہ اس میں ہر بہت صبر کرنے والے، بہت شکرکرنے والے کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔ En
تو انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار ہماری مسافتوں میں بُعد (اور طول پیدا) کردے اور (اس سے) انہوں نے اپنے حق میں ظلم کیا تو ہم نے (انہیں نابود کرکے) ان کے افسانے بنادیئے اور انہیں بالکل منتشر کردیا۔ اس میں ہر صابر وشاکر کے لئے نشانیاں ہیں
En
لیکن انہوں نے پھر کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر دور دراز کردے چونکہ خود انہوں نے اپنے ہاتھوں اپنا برا کیا اس لئے ہم نے انہیں (گزشتہ) فسانوں کی صورت میں کردیا اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے اڑا دیئے۔ بلاشبہ ہر ایک صبروشکر کرنے والے کے لئے اس (ماجرے) میں بہت سی عبرتیں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ مگر وہ کہنے لگے:“ اے ہمارے پروردگار! ہمارے سفر کی مسافتیں دور دور [30] کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چنانچہ ہم نے انھیں افسانے [31] بنا دیا اور تتر بتر کر ڈالا۔ اس میں یقیناً ہر صابر و شاکر [32] کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔
[30] جب انسان مال و دولت کے نشہ میں مست ہو جاتا ہے اور اسے ہر طرف سے فرسودگی اور آسانیاں ہی میسر ہونے لگتی ہیں تو بعض دفعہ وہ اسی مستی میں بعض انہونی باتیں بھی بکنے لگتا ہے کہ لوگ جو سفر سے متعلق ایسی اور ایسی مشکلات بیان کرتے ہیں کہ اتنے دن کچھ کھانے کو ملا نہ پینے کو، یا ہم فلاں مقام پر جا کر راستہ بھول گئے تو ہمیں کوئی آدم زاد نظر نہ آتا تھا جس سے راستہ ہی پوچھ سکیں وغیرہ وغیرہ چنانچہ وہ آرزو کرنے لگے کہ ہمارا بھی کوئی سفر تو ایسا بھی ہونا چاہئے ممکن ہے ان لوگوں نے یہ بات زبان قال سے نہ کہی ہو زبان حال سے کہی ہو۔ یعنی دل میں ایسے خیالات آنے لگے ہوں۔
[31] زراعت کے علاوہ تجارت کی بھی تباہی:۔
جب ان لوگوں کی زرعی معیشت تباہ ہو گئی تو یہی چیز ان کی تجارتی ترقی کی تباہی کا باعث بن گئی۔ جب اپنے مال کی پیداوار ہی ختم ہو جائے تو پھر تجارت کیسی؟ اگر بیرون ملک کی چیزیں ہی خریدی جائیں اور بیرون ملک ہی بیچی جائیں تو ان سے آخر کتنا منافع ہو سکتا ہے۔ اور اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کثیر آبادیاں جو اس شاہراہ کے کنارے آباد تھیں۔ وہاں سے اٹھ کر دوسرے مقامات کی طرف چلی گئیں کیونکہ ان کی معیشت کا انحصار بھی زیادہ تر انہی تجارتی قافلوں کی اشیائے خوردنی کی خرید و فروخت پر تھا۔ اس طرح سبا کی تمام نو آبادیاں تباہ و برباد ہو کر رہ گئیں۔
[32] ﴿صَبَّار اور ﴿شَكُوْرٌ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں اور یہ ایک مومن کی پوری طرز زندگی پر محیط ہیں۔ اور یہ دونوں لازم و ملزوم ہوتی ہیں۔ مومن کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب اسے اللہ کی طرف سے نعمتیں عطا ہوتی ہیں تو وہ شکر بجا لاتا ہے اور زندگی بھر اس کا یہی معمول ہوتا ہے اور جب اسے کوئی مصیبت پیش آتی ہے وہ اسے صبر و استقامت سے برداشت کرتا ہے اور آئندہ کے لئے اللہ کی رحمت کا امیدوار رہتا ہے۔ اس آیت کا یہی مفہوم ہے اور ہر مومن خوب سمجھ سکتا ہے کہ قوم سبا کے عروج کے اصل اسباب کیا تھے اور ان کی بربادی اور ہلاکت کا اصل سبب کیا چیز تھی۔