وہ اس کے لیے بناتے تھے جو وہ چاہتا تھا، بڑی بڑی عمارتیں اور مجسّمے اور حوضوں جیسے لگن اور ایک جگہ جمی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد کے گھر والو! شکر ادا کرنے کے لیے عمل کرو۔اور بہت تھوڑے میرے بندوں میں سے پورے شکر گزار ہیں۔
En
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں
En
13۔ جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہی کچھ وہ جن ان کے لئے بناتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے اور حوض جتنے بڑے لگن اور دیگیں ایک جگہ جمی رہنے [21] والی۔ اے آل داؤد! شکر کے طور پر عمل کرو [22]۔ اور میرے بندوں میں سے کم ہی شکرگزار ہوتے ہیں
[21] یہ جنات حضرت سلیمانؑ کے آرڈر کے مطابق بڑے بڑے محل، مساجد، قلعے، مختلف مسجدوں کے ماڈل یا سینیریوں کے ماڈل، بڑے بڑے لگن اور اتنی بڑی دیگیں بناتے تھے جو بڑی بوجھل اور ناقابل حمل و نقل ہونے کی وجہ کسی خاص مقام پر نصب کر دی جاتی تھیں اور ان میں حضرت سلیمانؑ کے لشکروں کے لئے کھانا تیار کیا جاتا تھا۔ بعض لوگوں نے جنوں یا شیاطین سے دیہاتی مضبوط قسم کے انسان مراد لئے ہیں یہ توجیہ غلط اور قرآن کے سیاق و سباق کے خلاف ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ انبیاء کی آیت 82 کا حاشیہ) [22] یعنی ایسے عمل کرو جو شکر گزار بندے کیا کرتے ہیں۔ شکر گزار بندے ایک تو وہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہتے ہیں اور اس کی نعمتوں کا ہر ایک سامنے برملا اعتراف کرتے ہیں۔ پھر وہ جو کام بھی کرتے ہیں اللہ کی مرضی کے مطابق کرتے ہیں اور اس کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔ اور شکر گزار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں اور جو چیز تھوڑی ہو اس کی قدرو منزلت بڑھ جاتی ہے۔ یعنی اگر تم شکر گزار بن جاؤ گے تو میرے ہاں تمہاری قدرومنزل اور بڑھ جائے گی۔ کہتے ہیں کہ اس حکم کے بعد داؤدعلیہ السلام نے دن اور رات کے پورے اوقات اپنے گھر والوں پر تقسیم کر رکھے تھے اور کوئی وقت ایسا نہ ہوتا تھا جبکہ آپ کے گھر کا کوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت میں مصروف نہ رہتا ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔