ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰہُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ الۡمُشۡرِکٰتِ وَ یَتُوۡبَ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪۷۳﴾
تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور (تاکہ) اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا ، نہایت رحم والا ہے ۔ En
تاکہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور خدا مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے
En
(یہ اس لئے) کہ اللہ تعالیٰ منافق مردوں عورتوں اور مشرک مردوں عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں عورتوں کی توبہ قبول فرمائے، اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ اور مہربان ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

73۔ (جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا) کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے۔ اور مومن مردوں اور عورتوں پر مہربانی کرے [112] اور اللہ معاف کر دینے والا اور بخشنے والا ہے۔
[112] انسان کو قوت ارادہ و اختیار دینے کا لازمی نتیجہ یہ نکل سکتا تھا کہ کچھ لوگ اس اختیار کا غلط استعمال کریں اور کچھ صحیح۔ پھر چونکہ انسان ظالم اور جاہل بھی ثابت ہوا۔ لہٰذا اس ارادہ و اختیار کا غلط استعمال کرنے والے بہت زیادہ نکلے اور صحیح استعمال کرنے والے ان کے مقابلہ میں بہت کم۔ اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ غلط استعمال کرنے والے مشرکوں، کافروں اور منافقوں کو ان کے اعمال کی سزا دی جائے۔ اور جن لوگوں نے اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اپنا طرز زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق بنا لیا انھیں اس کا اچھا بدلہ بھی دیا جائے۔