ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 47

وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ فَضۡلًا کَبِیۡرًا ﴿۴۷﴾
اور ایمان والوں کو خوش خبری دے کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔ En
اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہوگا
En
آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ آپ مومنوں کو خوشخبری دے دیجئے کہ ان پر اللہ کا بہت [75] بڑا فضل ہے۔
[75] مومنوں پر اللہ کا بہت بڑا فضل کیا ہے؟ اور امت مسلمہ کی فضیلت :۔
مومنوں پر اللہ کا فضل کبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آفتاب نبوت کو ان لوگوں میں مبعوث فرمایا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب انبیاء سے افضل بنایا اسی طرح آپ کی امت کو دوسری امتوں پر فضیلت اور بزرگی عطا فرمائی۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
1۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گذشتہ قوموں (یہود و نصاریٰ) کے مقابلہ میں تمہارا رہنا ایسا ہے جیسے عصر سے سورج غروب ہونے کا وقت۔ اہل تورات کو تورات دی گئی انہوں نے (صبح سے) دوپہر تک مزدوری کی پھر تھک گئے تو انھیں ایک ایک قیراط ملا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی انہوں نے (دوپہر سے) عصر کی نماز تک مزدوری کی پھر تھک گئے۔ انھیں بھی ایک قیراط ملا۔ پھر ہم مسلمانوں کو قرآن دیا گیا ہم نے سورج غروب ہونے تک مزدوری کی (اور کام پورا کر دیا) تو ہمیں دو قیراط دیئے گئے۔ اب اہل کتاب کہنے لگے: پروردگار! تو نے انھیں دو قیراط دیئے اور ہمیں ایک ایک حالانکہ ہم نے ان سے زیادہ کام کیا ہے؟ اللہ عزوجل نے انھیں جواب دیا: ”میں نے تمہاری مزدوری سے (جو تم سے طے کی تھی) کچھ دبایا تو نہیں؟“ وہ کہنے لگے: ''نہیں'' اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”پھر یہ میرا فضل ہے جسے جو کچھ چاہوں دوں“ [بخاری۔ کتاب مواقیت الصلوٰۃ۔ باب من ادرک رکعۃ من العصر]
2۔ سیدنا حذیفہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہمیں دوسری امتوں پر تین باتوں میں فضیلت ملی۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح کی گئیں اور ہمارے لئے ساری زمین نماز کی جگہ ہے اور زمین کی خاک ہمیں پاک کرنے والی ہے جب پانی نہ ملے۔ ایک بات اور بیان کی“ [مسلم۔ کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ]