ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 30

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۳۰﴾
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کھلی بے حیائی (عمل میں) لائے گی اس کے لیے عذاب دوگنا بڑھایا جائے گا اور یہ بات اللہ پر ہمیشہ سے آسان ہے۔ En
اے پیغمبر کی بیویو تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول الله کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی۔ اس کو دونی سزا دی جائے گی۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے
En
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی (کا ارتکاب) کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل (سی بات) ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ اے نبی کی بیویو! تم سے جو کوئی کھلی بے حیائی کا ارتکاب [42] کرے تو اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔ اور یہ بات اللہ کے لئے [43] بہت آسان ہے۔
[42] نبی کی بیویوں کا مقام :۔
نبی کی بیویوں کا مقام عام عورتوں سے بہت بلند ہے کیونکہ وہ امہات المومنین ہیں۔ جس طرح نبی کی ذات مومنوں کے لئے نمونہ ہے۔ اسی طرح نبی کا گھر اور اس کی بیویاں بھی سب کے لئے نمونہ ہیں۔ اگر نبی کی بیوی کوئی غلطی کرے گی تو اس کو اپنی ہی غلطی کی سزا نہیں ملے گی بلکہ اس کی اقتداء میں جو لوگ بھی وہ غلطی کریں گے ان سب کی سزا سے حصہ رسدی اسے بھی ملے گا۔ لہٰذا اس کی سزا عام لوگوں کی سزا سے دوگنی بلکہ بہت زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس آیت میں: ﴿بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ سے مراد زنا ہے اور یہ بفرض تسلیم ہے جس طرح اللہ نے اپنے پیارے نبی کو فرمایا کہ اگر تم بھی شرک کرو تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے تو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک کا صدور ممکن نہیں اسی طرح نبی کی بیویوں سے زنا کا ارتکاب ممکن نہیں۔ اور یہ انداز خطاب تاکید مزید کے طور پر اختیار کیا گیا ہے۔
[43] یعنی اللہ تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ اگر تم کوئی برا کام کرو تو تمہیں نبی کی بیویاں سمجھ کر چھوڑ دیا جائے بلکہ عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہو گا کہ تمہیں دوسروں سے دگنی سزا دی جائے اور اللہ اس پر پوری قدرت رکھتا ہے۔