ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 26

وَ اَنۡزَلَ الَّذِیۡنَ ظَاہَرُوۡہُمۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ مِنۡ صَیَاصِیۡہِمۡ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعۡبَ فَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ وَ تَاۡسِرُوۡنَ فَرِیۡقًا ﴿ۚ۲۶﴾
اور اس نے ان اہل کتاب کو، جنھوں نے ان کی مدد کی تھی، ان کے قلعوں سے اتار دیا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، ایک گروہ کو تم قتل کرتے تھے اور دوسرے گروہ کو قید کرتے تھے۔ En
اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے اُن کی مدد کی تھی اُن کو اُن کے قلعوں سے اُتار دیا اور اُن کے دلوں میں دہشت ڈال دی۔ تو کتنوں کو تم قتل کر دیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے
En
اور جن اہل کتاب نے ان سے سازباز کر لی تھی انہیں (بھی) اللہ تعالیٰ نے ان کے قلعوں سے نکال دیا اور ان کے دلوں میں (بھی) رعب بھر دیا کہ تم ان کے ایک گروه کو قتل کر رہے ہو اور ایک گروه کو قیدی بنا رہے ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ اور اہل کتاب [36] میں سے جنہوں نے کافروں کی مدد کی تھی انھیں اللہ تعالیٰ ان کے قلعوں [37] سے اتار لایا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال [38] دیا کہ ان کے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے تھے اور دوسرے کو قیدی [39] بنا رہے تھے۔
[36] یہ یہود بنو قریظہ تھے جو مسلمانوں کے معاہد تھے۔ بنو قینقاع اور بنی نضیر کی جلا وطنی کے بعد مدینہ میں یہود کا یہی قبیلہ باقی رہ گیا تھا۔ کیونکہ یہ قبیلہ دوسروں کی نسبت قدرے شریف اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والا تھا۔ جب بنو نضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا گیا اور جنگ احزاب کی تیاریاں شروع ہو گئیں تو بنو نضیر کا رئیس حیی بن اخطب رات کی تاریکیوں میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد کے پاس گیا۔ کعب کو اندازہ ہو گیا تھا کہ حیی مجھے مسلمانوں سے عہد شکنی پر آمادہ کرنے کے لئے آیا ہے۔ لہٰذا اس نے دروازہ ہی نہ کھولا۔ حیی نے اس سے کچھ چکنی چپڑی باتیں کیں تو آخر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حیی کہنے لگا:”کعب! میں تمہارے پاس زمانے کی عزت اور چڑھتا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں۔ ان لوگوں نے مجھ سے عہدو پیمان کیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کا صفایا کئے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے“ اس کے جواب میں جو کچھ کعب نے کہا: وہ سنہری حروف میں لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے کہا: ”حیی! واللہ تم میرے پاس زمانے کی ذلت اور برسا ہوا بادل لے کر آئے ہو جو صرف گرج چمک رہا ہے۔ تم پر افسوس۔ تم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں صدق و صفا کے سوا کچھ نہیں دیکھا“ [ابن هشام 2: 220، 221] مگر حیی نے کعب کو سبز باغ دکھا دکھا کر بالآخر بد عہدی پر مجبور کر ہی لیا وہ کہنے لگا: اگر قریش محمد کا خاتمہ کئے بغیر ہی واپس چلے گئے تو میں بھی تمہارے ساتھ قلعہ بند ہو جاؤں گا اور واپس نہیں جاؤں گا پھر جو انجام تمہارا ہو گا وہی میرا ہو گا۔ اس شرط پر کعب بھی اتحادیوں میں شامل ہو گیا۔
مدینہ میں اندرونی خطرات :۔
اس صورت حال کی تحقیق کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے سرداروں (سعد بن عبادہ، سعد بن معاذ، عبد اللہ بن رواحہ اور خوّات بن جبیرؓ کو تحقیق حال کے لئے بھیجا اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کر دی کہ اگر بنو قریظہ کی بد عہدی کی خبر درست ہو تو دوسروں کی موجودگی میں مجھے نہ بتائیں بلکہ صرف اشارہ سے کام چلا لیں۔ جب انہوں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ سے بتایا کہ یہ خبر درست ہے تو اس سے آپ کو سخت صدمہ ہوا۔ اس خبر کے اخفاء کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ مسلمان کم از کم مدینہ کی اندرونی حفاظت کی طرف سے مطمئن تھے مگر اس صورت حال سے مدینہ کے اندر بھی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب غزوہ خندق]
[37] بنو قریظہ کا محاصرہ :۔
تقریباً ایک ماہ کے محاصرہ کے بعد جب اتحادی لشکر بھاگ نکلا تو اب بنو قریظہ کو ان کی عہد شکنی کی سزا دینے کا وقت بھی آن پہنچا۔ جنگ خندق سے فراغت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہؓ کے ہاں غسل فرما رہے تھے کہ جبرئیل آئے اور کہا کہ ”آپ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں حالانکہ فرشتوں نے ابھی تک نہیں اتارے“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت منادی کرا دی کہ مجاہدین عصر کی نماز بنو قریظہ کے ہاں جا کر ادا کریں۔ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الٰی بنی قریظة ومحاصرتہ ایاھم]
چنانچہ چند گھنٹوں کے اندر اندر تین ہزار مسلح مجاہدین نے بنو قریظہ کے ہاں پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنو قریظہ قلعہ بند ہو گئے (حیی بن اخطب بھی حسب وعدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوا تھا) ان کے سردار کعب بن اسد نے قوم کے سامنے تین تجاویز رکھیں: یہود کی سپر اندازی:
1۔ اسلام قبول کر لو۔ اس صورت میں تمہارا مال و جان سب کچھ محفوظ رہے گا اور تم پر یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ یہ وہی نبی برحق ہے جس کی بشارت تم اپنی کتاب میں پاتے ہو۔
2۔ اپنے بیوی بچوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کر دو۔ پھر خود مردانہ وار لڑائی لڑو۔ پھر مر جاؤ یا فتح پاؤ۔ 3۔ یا پھر مکر و فریب کی راہ اختیار کرو۔ مسلمانوں پر ہفتہ کے دن حملہ کر دو۔ کیونکہ انھیں اطمینان ہو گا کہ آج لڑائی نہیں ہو گی۔ مگر بنو قریظہ نے اپنے سردار کی ایک تجویز بھی نہ مانی تو وہ جھنجھلا کر کہنے لگا: تم میں سے کسی نے آج تک ایک رات بھی ہوشمندی کے ساتھ نہیں گزاری۔ [الرحيق المختوم۔ اردو ص 494]
اب ان کے سامنے بس ایک ہی راستہ باقی رہ گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔
[38] یہود کا سیدنا سعد بن معاذ کو حکم تسلیم کرنا :۔
بدعہدی اور عہد شکنی قوم کو انتہا درجہ کا بزدل بنا دیتی ہے۔ ان کے پاس وافر مقدار میں راشن موجود تھا اور انہوں نے مسلمانوں کے استیصال کے لئے ڈیڑھ ہزار تلواریں، دو ہزار نیزے تین سو زرہیں اور پانچ سو ڈھالیں بھی تیار کر رکھی تھیں۔ مگر وقت پر کوئی چیز بھی ان کے کام نہ آئی۔ انہوں نے صرف 25 دن کے محاصرہ کے بعد اس شرط پر ہتھیار ڈال دیئے کہ ان کے حق میں جو بھی فیصلہ ان کے حلیف سیدنا سعد بن معاذ کریں گے وہ انھیں منظور ہو گا۔ ان کے پاس قلعہ میں جس قدر راشن موجود تھا اگر وہ چاہتے تو سال بھر قلعہ بند رہ کر آسانی سے گزر بسر کر سکتے تھے مگر ان کے مجرم ضمیر نے انھیں جلد ہی بے چین کر دیا اور اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کی دھاک بٹھا دی۔
[39] بنو قریظہ کا انجام :۔
سیدنا سعد بن معاذ کو جنگ احزاب میں ایک کاری زخم لگا تھا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے: سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جنگ خندق میں سعد بن معاذ کو ہفت اندام کی رگ میں تیر لگ گیا تو آپ نے مسجد میں ہی ان کے لئے خیمہ لگا دیا۔ تاکہ قریب سے عیادت کر سکیں۔ مسجد میں بنو غفار کا خیمہ بھی تھا۔ جب (سیدنا معاذ کا) خون بہہ بہہ کر ان کے خیمہ کی طرف آنے لگا تو وہ ڈر گئے، کہنے لگے: اے خیمہ والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے بہہ کر ہمارے پاس آ رہا ہے۔ دیکھا تو سعد کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ آخر اسی زخم سے وہ چل بسے۔ [بخاری۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب الخیمۃ فی المسجد للمرضی وغیرھم]
لہٰذا وہ غزوہ بنو قریظہ میں شامل نہ ہو سکے۔ فیصلہ کے لئے انھیں گدھے پر سوار کر کے موقعہ پر لایا گیا تو آپ نے اپنے عہد شکن حلیف کی کوئی رو رعایت نہیں کی۔ اور یہ فیصلہ دیا کہ: ”(1) سب مردوں کو قتل کر دیا جائے (2) عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، (3) ان کے اموال مجاہدین میں تقسیم کر دیئے جائیں“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ سن کر فرمایا: ”تم نے وہی فیصلہ کیا جو سات آسمانوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے“ [بخاری۔ کتاب المغازی۔ باب مرجع النبی من الیٰ بنی قریظۃ ومحاصرتہ ایاھم]
چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق چھ سو سے کچھ زائد مردان جنگی کو قتل کر دیا گیا اور ان مقتولین میں حیی بن اخطب بھی تھا۔ جس نے بنوقریظہ کو عہد شکنی پر مجبور کر کے ان پر یہ مصیبت ڈھائی تھی۔ یہ مقتولین صرف اس بنا پر قتل نہیں کئے گئے کہ وہ جنگی قیدی تھے بلکہ ان کے جرائم اور بھی تھے مثلاً:
(1) تجدید معاہدہ کے باوجود انہوں نے نہایت نازک موقعہ پر عہد شکنی کر کے مسلمانوں کو اندرونی خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔
(2) انہوں نے مردانہ وار سامنے آنے کی بجائے عورتوں اور بچوں کے قلعوں پر حملہ کی کوشش کی تھی۔
(3) جنگ احزاب کے بعد بھی حیی بن اخطب کو ساتھ ملا کر مدینہ میں اشتعال انگیزی شروع کر دی تھی اور بجائے اس کے کہ اپنی عہد شکنی پر پشیمان ہوتے، انہوں نے مقابلہ کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔