مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنھوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انھوں نے اللہ سے عہد کیا، پھر ان میں سے کوئی تو وہ ہے جو اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وہ ہے جو انتظار کر رہا ہے اور انھوں نے نہیں بدلا، کچھ بھی بدلنا۔
En
مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار اُنہوں نے خدا سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا
مومنوں میں (ایسے) لوگ بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا انہیں سچا کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی
En
23۔ مومنوں میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد [32] کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی تو اپنی ذمہ داری [33] پوری کر چکا ہے اور کوئی موقع کا انتظار کر رہا ہے۔ اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
[32] اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جو لیلۃ العقبہ ثانیہ میں انصار کے بہتر (72) افراد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور وہ عہد یہ تھا کہ ہم مرتے دم تک آپ کا ساتھ دیں گے۔
[33] اللہ سے کئے ہوئے عہد کو نباہنے والے :۔
اس سلسلہ میں درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: (1) سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت (میرے چچا) انس بن نضر کے حق میں نازل ہوئی ہے“ [بخاري۔ كتاب التفسير] (2) سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ میرا نام میرے چچا انس بن نضر کے نام پر رکھا گیا تھا۔ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر نہ ہو سکے اور یہ بات ان پر بہت شاق گزری اور کہا کہ: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر رہنے کا پہلا موقع تھا جس سے میں غائب رہا۔ اللہ کی قسم! اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہونے کا کوئی موقع آیا تو اللہ تعالیٰ خود دیکھ لے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں“ راوی کہتا ہے کہ: پھر وہ ڈر گئے کہ ان الفاظ کے علاوہ کچھ اور لفظ کہنا مناسب تھا۔ پھر جب اگلے سال احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوئے تو انھیں (راہ میں) سعد بن معاذ ملے۔ انہوں نے پوچھا: ”ابو عمرو! کہاں جاتے ہو؟“ انس کہنے لگے: واہ میں تو احد (پہاڑ) کے پار جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ چنانچہ وہ (بڑی جرأت سے) لڑے۔ حتیٰ کہ شہید ہو گئے اور ان کے جسم پر ضربوں، نیزوں اور تیروں کے اسی (80) سے زیادہ زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر کہنے لگی: میں اپنے بھائی کی نعش کو صرف اس کے پوروں سے پہچان سکی۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير] (3)موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ: جب میں معاویہ کے ہاں گیا تو انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں؟ میں نے کہا: ضرور سناؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ طلحہ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی ذمہ داریاں پوری کر چکے۔ [ترمذي۔ حواله ايضاً] یہ وہ بزرگ ہیں جو جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے اپنے ہاتھ پر تیر روکتے رہے حتیٰ کہ ایک ہاتھ شل ہو گیا تو دوسرا ہاتھ آگے کر دیا تھا۔ [بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب ذکر طلحہ بن عبید اللہ]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔