ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 15

وَ لَقَدۡ کَانُوۡا عَاہَدُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ لَا یُوَلُّوۡنَ الۡاَدۡبَارَ ؕ وَ کَانَ عَہۡدُ اللّٰہِ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۱۵﴾
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔ En
حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کر چکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھریں گے۔ اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اُس کی) ضرور پرسش ہوگی
En
اس سے پہلے تو انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعده کی باز پرس ضرور ہوگی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ حالانکہ اس سے بیشتر وہ اللہ سے عہد [20] کر چکے تھے کہ وہ پیٹھ نہ پھریں گے۔ اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہو کر ہی رہے گی
[20] منافقوں کا اپنے عہد سے انحراف :۔
یہ عہد ان منافقوں نے جنگ احد کے بعد کیا تھا کہ اگر آئندہ کوئی آزمائش کا موقع آیا تو ہم اپنے سابقہ قصور کی تلافی کر دیں گے۔ پھر جب دو ہی سال بعد آزمائش کا موقعہ آگیا تو ان لوگوں نے پہلے سے بھی زیادہ بزدلی دکھائی اور جنگ سے فرار کی راہیں سوچنے لگے بلکہ دوسروں کی بھی حوصلہ شکنی کرنے لگے۔ حتیٰ کہ سب کو معلوم ہو گیا کہ یہ اپنے عہد میں کس قدر مخلص تھے۔ اب ان کے اصل جرم کے علاوہ اس بدعہدی کی بھی بازپرس ہوگی۔