8۔ پھر اس کی نسل کو حقیر [9] پانی (نطفہ) کے سَت سے چلایا۔
[9] نطفہ کے ہر جرثومہ میں صاحب نطفہ کی شکل اور عادات و خصائل کا عکس:۔
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اہم تخلیقی کارناموں کی طرف توجہ دلائی ہے پہلا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو مختلف مراحل سے گزار کر انسان کا پتلا اپنے ہاتھ سے تیار کیا پھر اس میں اپنے ہاں سے روح پھونکی تو ایک محیر العقول اور عظیم الشان چیز وجود میں آگئی۔ جس میں عقل و شعور، قوت ارادہ و اختیار اور قوت تمیز و استنباط سب کچھ موجود تھا اور وہ اس قابل بنا دیا گیا کہ وہ خلافت ارضی کا بار اٹھا سکے۔ اور اللہ کا دوسرا محیر العقول تخلیقی کارنامہ یہ ہے کہ پھر انسان کی نسل کو نطفہ اور توالد و تناسل سے چلا دیا۔ جس سے کروڑوں انسان پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ نطفہ کیا ہے؟ حکما کہتے ہیں کہ یہ چوتھے ہضم کے نتیجہ میں ظہور میں آتا ہے جبکہ خون تیسرے ہضم کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس نطفہ کے ہر قطرہ میں ہزاروں جرثومے ہوتے ہیں اور ایک ایک جرثومہ میں اصل انسان کی شکل و صورت، اس کی عادات اور اس کے خصائل موجود ہوتے ہیں۔ گویا نطفہ کا ایک ایک جرثومہ اس چیز کا چھوٹے سے چھوٹا اور مکمل ترین عکس ہوتا ہے جو صرف طاقتور خوردبین کے ذریعہ سے ہی نظر آسکتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔