ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ السجدة (32) — آیت 5

یُدَبِّرُ الۡاَمۡرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الۡاَرۡضِ ثُمَّ یَعۡرُجُ اِلَیۡہِ فِیۡ یَوۡمٍ کَانَ مِقۡدَارُہٗۤ اَلۡفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۵﴾
وہ آسمان سے زمین تک (ہر) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایسے دن میں اوپر جاتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔ En
وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ پھر وہ ایک روز جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی۔ اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا
En
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ وہی آسمان سے زمین تک کے انتظام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر ایک روز جس کی مقدار تمہارے حساب سے ایک ہزار سال ہے وہی انتظام [6] اس کی طرف اٹھ جائے گا
[6] اللہ تعالیٰ ہزار سالہ پروگرام مدبرات امر کے حوالہ کر دیتا ہے جس میں کسی قوم پر عذاب بھی شامل ہے :۔
اس کے تخلیقی کارناموں کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک کام کا ارادہ کرتا ہے یا اس کی اسکیم بناتا ہے تو تدبیر امور پر مامور فرشتوں کو اس کی خبر دیتا ہے۔ جو اللہ کے حکم کے مطابق نیچے اترتے ہیں۔ تمام اسباب ظاہری و باطنی خواہ زمین سے متعلق ہوں یا آسمان سے سب کے سب خود بخود جمع ہو کر اس کام کی تکمیل کے احترام میں لگ جاتے ہیں۔ اور ایک دن میں جب یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے تو فرشتے اللہ کے حضور حاضر ہو کر اس کی روداد پیش کر دیتے ہیں۔ اور یہ ایک دن اہل دنیا کے حساب کے مطابق ایک ہزار سال کی مدت ہوتی ہے۔ گویا فرشتوں کو ایک ہزار سالہ پروگرام اللہ تعالیٰ دے دیتے ہیں۔ جب سب کام سرانجام پا چکتا ہے تو پھر اگلا ایک ہزار سالہ پروگرام مدبرات امر فرشتوں کے حوالہ کر دیا جاتا ہے۔ اسی آیت میں دراصل ان مشرکوں کے اس اعتراض کا جواب دیا جا رہا ہے جو اس بات پر مصر تھے اور نبیوں سے کہتے رہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ آ کیوں نہیں جاتا؟ یا تم اسے ابھی ہم پر لے کیوں نہیں آتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ہزار سالہ پروگرام میں کسی قوم پر عذاب آنے کا پروگرام بھی شامل ہوتا ہے۔ اور وہ پروگرام کے مطابق اپنے وقت مقررہ پر ہی آتا ہے اس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ جو عذاب کسی قوم کے مقدر ہو چکا ہے وہ اس پر نہ آئے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے سارے کام سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق بروئے کار لاتا ہے۔ تمہارے جلدی مچانے یا نہ مچانے کیا کچھ فائدہ یا اثر نہیں ہو گا۔